img-20160928-wa0376نمائندہ خصوصی جان محمد رمضان
To:سی این این اردو ٹی وی

> خیبر ایجنسی
> خیبر ایجنسی 991 مربع میل کے علاقے میں ہے. اس ایجنسی میں قبائل کی اکثریت آٹھ بڑے حصوں موجود ہیں جن میں آفریدی، ہیں. تاہم، Mallagoris (مہمند) Shilmanis، اور Shinwaries کے اہم جیب ہیں. Shinwaries پاکستان افغان سرحد کے دونوں اطراف پر رہتے ہیں لیکن افغانستان میں زیادہ تر ہیں. آفریدی کیا اب بھی سب سے زیادہ ناقابل رسائی علاقوں میں سے ایک، آفریدی تیراہ ہے کے باشندوں کے طور درہ خیبر کہ کنٹرول اور بھی قبیلے کے طور پر مشہور ہیں. یہ اسٹریٹجک صورتحال کو ان کے ساتھ شرائط کرنے کے لئے آنے کے لئے تاریخ کو خیبر سے گزر رہا ہے میں ہر فتح مجبور کرنے آفریدی کے قابل بنایا ہے. وہ پہاڑوں میں حکمت عملی اور درڑھتا کے لئے ایک مضبوط جنگ ریکارڈ ہے. انہوں نے ایک بار اورنگزیب کے کی ایک پوری مغل آرمی ہلاک کر ڈالا.images-3
> خیبر ایک قلعہ کا عبرانی نام ہے. اس Madinia منورہ، قریب خیبر کی لڑائی جہاں حضرت علی (رضی اللہ عنہ) عظیم جانبازی کا مظاہرہ کیا میں تھا اور یہی وجہ ہے کہ، خیبر اسی 8th صدی عیسوی میں تصفیہ پر پٹھانوں کے ذریعے موجودہ درہ خیبر میں قائم کیا گیا تھا،، علی مسجد میں قائم کیا گیا تھا ہے حضرت علی کی یاد (RA).
> خیبر پاس بہت امیر تاریخ ہے، بدھ مت اس کے لئے افغانستان کے لیے اس کے پاس اور علی مسجد میں ستوپوں اور Sphola گواہی کے ذریعے پھیلا. کئی ایک لڑائیوں حملہ فوجوں کے خلاف افغانوں کی طرف سے یہاں لڑی گئیں. امیر تیمور پاس، Michi کی پوسٹ سے نظر آتی ہے جس میں ایک جیل تعمیر. اکبر گریٹ چارباغ کے قریب، Kafirkot میں ایک قلعہ تعمیر کیا. اورنگ زیب کی مغلیہ فوج 1672 ء میں لنڈی کوتل کے قریب قتل کر دیا گیا تھا. سکھوں جمرود جہاں جنرل ہری سنگھ نلوا 1837 میں مارا گیا تھا میں ایک مضبوط قلعہ تعمیر کیا.img-20160928-wa0374
> قبائل صرف (پشاور سے 5 میل) باڑہ مارکیٹ شہر سے پرے نسبتا گرم Khajuri میدانی علاقوں کی طرف ہجرت جب ایجنسی ہیڈکوارٹر موسم سرما میں پشاور میں ہیں. باڑہ دریا پر نئے پانی کے منصوبوں کی کاشت اور بستی کے لئے قابل قدر علاقہ میں نیم بنجر اور بنجر Khajuri میدانوں تبدیل کر رہے ہیں. برک گھروں ایک تیز رفتار کی شرح میں دکھائی دے رہے ہیں. موسم گرما کے ہیڈ کوارٹر بین الاقوامی سرحد پر لنڈی کوتل میں ہیں. جمرود (ایرانی شہنشاہ جمشید کچھ 2000 سال قبل یہاں حکومت کرنے والے سے اس کا نام حاصل) درہ خیبر پشاور سے تقریبا دس میل کے منہ پر بیٹھتا ہے. ذکر ایک یودقپوٹ کی طرح لگتا ہے کہ ایک سکھ قلعہ اب بھی جمرود کے علاقے غلبہ. کوکی خیل آفریدی یہاں رہتے ہیں. Shahgai فورٹ، جمرود سے دس میل، اس اسکواش کورٹ اور سوئمنگ پول کے ساتھ، سب سے برقرار رکھا اور سرحد پر مارتے سے ایک ہے. علی مسجد پاس سب سے زیادہ نقطہ اور کلید ہے (حضرت علی، حضور اکرم کے داماد یہاں دعا کی ہے کہا جاتا ہے).images
> خیبر ایجنسی برطانوی کی طرف سے قبضہ کر لیا جائے کے لئے صرف افغان چوکی ہے. اس ریکارڈ کی تاریخ طویل اور رنگین ہے اور achaemenians کی آمد، پشاور کے سرسبز وادی پر ان کے راستے پر کے ذریعے گرجا جو حملہ فوج کی ایک سیریز کی طرف سے کامیاب سکندر اعظم، جو باری میں تھے کے یونانی لشکر طرف سے کے بعد سے شروع ہوتی ہے، برطانوی بحر ایکسپڈیشنری فورسز اتنی بہادری میں مارچ کیا اور اسی disastrously باہر ٹھوکر کھائی ہے کے ساتھ بند کر tapering کے. متعدد یادگار برطانوی انڈین ریجیمیںٹوں آہستہ آہستہ پٹھانوں اور افغانوں سے پاس چھین لیا جو پتھر چہرے پر کھدی تھے.
> طورخم پر افغان سرحد کے ایک گھنٹے کی ڈرائیو کے بارے میں، 56 کلومیٹر (35 میل) پشاور سے ہے. سڑک چھاؤنی سے اور سڑک کے دونوں کناروں پر کھیتوں پناہ گزین کیمپوں کے ساتھ آتے ہیں، جس کے بعد یونیورسٹی ٹاؤن، راہ سے مغرب سے چلتا. کیمپوں پختون قبائلیوں کے مرکبات ہیں کے بعد، ان کے اعلی مٹی کی دیواروں turrets اور بندوق slits کے، ان کے راستے کی بڑی نالیدار لوہے کے دروازوں کی طرف سے حفاظت کے ساتھ پیش.
>  علی مسجد:
> پاس کے تنگ موڑ کے قریب، جمرود سے 15 کے بارے میں کلومیٹر علی مسجد اور ایک بڑے قلعہ اور ایک برطانوی سے Cemetry ہے. وادی دیواروں برطانوی ریجیمیںٹوں یہاں کی خدمت کی ہے کے insignia برداشت. قبرستان میں یہاں برطانوی فوجیوں کی قبروں 1879. یہ دوسری افغان جنگ میں ہلاک ہونے والے علی مسجد کی مشہور جنگ تھی ہیں. ریجیمیںٹل نشان گورڈن Highlanders، ساؤتھ ویلز Borderers، اور رائل سسیکس کے ساتھ سڑک کے ساتھ ساتھ کئی مقامات پر کھدی ہوئی اور راک چہروں پر پینٹ کر رہے ہیں،، چیشائر اور Dorset ریجیمیںٹوں میں سے ایک بہادر گروپ میں کھڑے. گھاٹی کے بعد، پاس پشتون دیہات کے ساتھ بندیدار ایک وسیع زرخیز وادی میں کھلتا. تشکیل کرنے کے لئے یہ سچ ہے، تاہم، ان گاؤں گھڑی ٹاورز تنگ بندوق slits کے ساتھ چھید درمیان چلنے اعلی، crenellated مٹی کی دیواروں کے ساتھ، کلوں کی طرح زیادہ نظر آتے ہیں.
> علی مسجد قلعہ خیبر پاس، صرف ایک بھاری بھرکم ھچر یا اونٹ کے طور پر دیر کے وسط انیسویں صدی تک منتقل کر سکتے ہیں جس کے ذریعے کا تنگ حصے میں واقع ہے. فورٹ 1890. ایک بدھ ستوپ کے کھنڈرات بھی علاقے میں دیکھا جا سکتا ہے میں برطانیہ نے تعمیر کیا گیا تھا. ایک مسجد اور حضرت علی (رضی اللہ عنہ)، جو ایک مقامی روایت کے مطابق اس جگہ کا دورہ کیا کی یاد میں ایک مزار بھی ہے. حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس ہونے کا یقین ایک ہاتھ کے نشانات کی جاتی ہیں جو ایک بہت بڑی چٹان بھی ہے. یہاں تک کہ خیبر عرب کے صوبہ خیبر، جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ بہادری کا ایک عظیم کام مکمل کیا بعد نامزد کیا گیا تھا.
> پولیٹیکل ایجنٹ کیپٹن خالد محمود خان نے کہا کہ فروری میں تعیناتی کے بعد پچھلے آٹھ سال سے رکے ھوئے منصوبوں کو بحال کیا اور منصوبوں پر کام شروع کردیا ھے جو منصوبے خیبر ایجنسی میں حالات خراب ھونے کیوجہ سے رکے ھوئے تھے
> چارج سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے میں نے تمام قبائلیوں کی میٹنگ بلائی جس میں تمام ملکان کو اپنے اپنے قبیلوں اور علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے اور اپنے اپنے علاقوں میں آبادکاری کیلئے کہا گیا جس پر ھم بڑی کامیابی حاصل کرچکے ہیں
> افواج پاکستان نے ضرب عضب خیبر ون خیبر ٹو کے کامیاب ترین آپریشن سے خیبر ایجنسی میں امن بحال ھوگیا ھے اور طالبان لشکر السلام کو  مکمل طور ان علاقوں سے نکال دیا گیا ھے خیبر ایجنسی میں اب تمام مقامی لوگ آباد ھیں جو دوران آپریشن خیبر ایجنسی سے ہجرت کرکے پشاور شہر یا دوسرے علاقوں میں آباد ھوگئے تھے میں خیبر ایجنسی میں امن بحال کرنے زندگی کو معمول پر لانے پر افواج پاکستان کے کردار کو سراہتا ھوں اور اپنے افواج پاکستان کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتا ھوں شہیدوں کو سیلوٹ پیش کرتا ھوں
> خیبر ایجنسی میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ھم نے عرصہ دراز سے رکے ھوئے جمرود گرڈ اسٹیشن پر کام شروع کروا دیا ھے اور 2018تک خیبر ایجنسی جمرود میں بجلی کی قلت کو پورا کردیا جائے گا
> خیبر ایجنسی میں اسکولوں میں مفت کتابوں کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ھے اور غریب اسٹوڈنٹس کو ماہانہ وظائف دے رھے ہیں اسکولز میں کوالیفائیڈ اساتذہ بھرتی کیئے گئے ہیں خیبرایجنسی ھم نے لیویز خاصہ دار فورس رائفلز کی ڈیوٹی کو یقینی بنایا مجھ سے پہلے یہاں پر کھاتوں میں خاصہ دار صرف ڈیوٹی دیا کرتے تھے ھم نے اس معاملے میں سختی کرتے ھوئے ڈیوٹیوں کو یقینی بنایا
> خیبر ایجنسی تحصیل باڑہ میں ھم نے زندگی کی بنیادی سہولیات روزگار کے مواقع فراہم کئے باڑہ میں خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کے رجہان کیلئے ھم کوشاں ہیں
> خیبر ایجنسی تحصیل لنڈی کوتل میں زندگی کی بنیادی سہولتوں کے حوالے سے ڈگری کالج گورنمنٹ اسکولز سرکاری اسپتال میں کوالیفائیڈ اساتذہ کوالیفائیڈ ڈاکٹرز موجود ہیں اور اپنی زمہ داریاں احسن طریقے نبھارھے ہیں میرا ہفتہ وار وزٹ ھوتا ھے جس میں طور خم بارڈر پر اسکیورٹی صورتحال تجارتی صورتحال دیکھی جاتی ھے طورخم بارڈر پاکستان کی معیشت میں اھم کردار کا حامل ھے روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپوں کا کاروبار ھوتا ھے افواج پاکستان نے طورخم بارڈر پر افغانستان سے کشیدگی ختم کرنے کے بعد طورخم بارڈر کا نام تبدیل کرکے باب پاکستان رکھا ھے مجھے اس پر بہت خوشی ھے باب پاکستان کا لقب بھی خیبر ایجنسی کیلئے اور میرے لئے اعزاز ھے
> کیپٹن خالد محمود خان نے بتایا کہ مہاجرین کی واپسی کیلئے فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں اور مہاجرین واپسی کے قافلوں کیساتھ خاصہ دار فورس کے جوانوں کی خصوصی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں
> باب پاکستان پر افغانستان کیساتھ تجارت کرنے والوں کو ہدایت جاری کی گیئں ہیں کہ اپنے ہمراہ تمام دستاویزات یقینی بنائیں تاکہ کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے
> سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن کوشش کررھے ہیں
> خیبر ایجنسی میں 14سے زائد قومیں آباد ہیں جن میں قوم شینواری قوم شلمانی قوم ذخہ خیل قوم اکاخیل قوم ستوری خیل کمر خیل کوکی خیل سپاہ قوم ملک دین خیل ضیاءالدین خیل ملا گوری برقمبر خیل شلور قمبر خیل آدم خیل جھنڈا خیل آباد ہیں تمام قبائلی رہنماؤں ملکان سے ہفتہ وار میٹنگ کا شیڈول جاری کردیا گیا تھا جس کیوجہ سے تمام قبائلیوں کے مسائل سننے اور حل کروانے میں آسانیاں پیدا ھوئیں کیپٹن خالد محمود خان نے کہا کہ تمام قبیلوں سے نوجوانوں کو انٹرنیشنل سطح پر کرکٹ باسکٹ بال کیلئے ھم نے ٹورنامنٹ منعقد کیئے جس app79-03peshawar-2-1024x759میں کھلاڑیوں کو میرٹ کی بنیاد پر چنہ گیا
> کیپٹن خالد محمود خان نے بتایا کہ خیبر ایجنسی میں تین تحصیل ہیں جن میں لنڈی کوتل جمرود باڑہ ہیں اور ھر تحصیل میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ کا دفتر ھے اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ تمام تر معاملات انہی تحصیل آفس میں دیکھتے ہیں اور وہاں مقامی لوگوں کو انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کی جاتی
> باب پاکستان سے پشاور کارخانوں تک آٹھ بڑی چیک پوسٹیں قائم ہیں جو کسی بھی قسم کی غیر قانونی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے میں اھم کردار ادا کررھی ہیں چیک پوسٹ مچنی. پڑنگ سم. زیڑے . بھگیاڑی. تختہ بیگ. جمرود بازار پر خاصہ دار فورس لیویز رائفلز اور سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بھی اپنے فرائض سرانجام دے رھے ہیں
> کیپٹن خالد محمود خان نے بتایا کہ ھم نے بجلی کی کمی کے باعث عارضی طور پر این جی اوز کیساتھ مل کر پورے خیبر ایجنسی میں شمسی توانائی والے انرجی پینل گھر گھر لگوائے
> آخر میں کیپٹن خالد محمود خان نے کہا کہ ٹرائبل ایریا کہ مقامی صحافیوں کو خامیوں کیساتھ اچھائیوں کو بھی ابلاغ کے ذریعے عوام کو بتانا ھوگا انشاءاللہ میں خیبر ایجنسی کو ترقی کیطرف لے کر چلوں گا اور اپنے فرائض بہترین طریقے سے نبھاؤں گا اور کسی کو بھی فرائض میں غفلت پر برداشت نہیں کیا جائے گا انشاءاللہ  خیبر ایجنسی وسائل سے مالا مال ھوگی اللہ کریم مجھے اپنے فرض کو نبھانے میں آسانیاں پیدا فرمائیں اور خیبر ایجنسی کا امن تاحیات قائم رھے شکریہ

Save

Save