نیویارک(سی این این) یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ فیس بک اپنے صارفین کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ کرتا رہتا ہے تاہم یہ کیا کچھ اپنے پاس محفوظ کرتا ہے؟ اس حوالے سے ماہرین نے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر ہی فیس بک صارفین کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی۔ ویب سائٹ nymag.com کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”صارفین کے موبائل فون میں جو کچھ بھی موجود ہوتا ہے وہ سب کچھ فیس بک کی ایپلی کیشن اٹھا لیتی ہے اور کمپنی اسے اپنے پاس محفوظ کر لیتی ہے۔ اس میں صارف کے فون نمبر، بھیجے گئے اور موصول کیے گئے ایس ایم ایس اور فون کالزکا ریکارڈتک شامل ہیں۔ حتیٰ کہ فیس بک صارفین کی فون کالز میں ہونے والی گفتگو کی بھی نگرانی کرتا ہے اور ویڈیوز بھی اپنے پاس محفوظ کر لیتا ہے۔رپورٹ کے مطابق فیس بک صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے اور کیمبرج اینالیٹکا نامی کمپنی کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی انتخابی مہم میں استعمال کیے جانے کے انکشاف کے بعد متعدد صارفین اپنے فیس بک اکاﺅنٹس ڈیلیٹ کر رہے ہیں اور اپنا ڈیٹا ڈاﺅن لوڈ کر رہے ہیں۔ جب بھی کوئی صارف فیس بک پر موجود اپنا ڈیٹا ڈاﺅن لوڈ کرتا ہے تو اس میں شامل اپنی چیزیں دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ اس کی ایسی انتہائی نجی معلومات بھی فیس بک کے پاس محفوظ ہو سکتی ہیں۔برٹنی سٹیفنز نامی آئی ٹی ماہر کا کہنا تھا کہ ” میرے فون میں 100سے زائد ویڈیوز موجود تھیں جو میں نے کبھی انٹرنیٹ پر پوسٹ نہیں کیں۔ گزشتہ دنوں جب میں نے اپنے فیس بک اکاﺅنٹ کا ڈیٹا ڈاﺅن لوڈ کیا تو اس میں یہ ویڈیوز بھی موجود تھیں۔ یہاں سے مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ فیس بک میری نقل و حرکت پر بھی نظر رکھے ہوئے تھا، اس کے لیے وہ میرے فون کی لوکیشن کو استعمال کر رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ میں کن جگہوں پر جاتی رہی ہوں اور کن تقریبات میں شرکت کرتی رہی ہوں۔“