اسلام آباد (سی این این) جنسی بے راہ روی کے نتیجے میں ایڈز جیسی موزی بیماریاں پھیل رہی ہیں اور1987ءمیں پاکستان میں ایڈز کا صرف ایک کیس رجسٹر ہوا تھا اب 80ہزار کے قریب افراد اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اس طرح جسم فرو ش خواتین کے مقابل ہم جنس لڑکوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ گاہکوں کی دلچسپی ہے جو خواتین کی نسبت لڑکوں کو دو گنا ادائیگی پر تیار ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں لڑکیاں اور خواتین اس پیشے میں پچیس سے تیس ہزار روپے ماہانہ کماتی ہیں وہاں جنس فروش لڑکے پچاس سے ستر ہزار روپے ماہانہ کما لیتے ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں اخبارات میں چھپنے والی خبر کے مطابق پنجاب کے ایک علاقے کے رہائشیوں کی سکرینگ کے بعد انکشاف ہوا کہ وہاں تقریباً دو سو سے زائدافراد ایڈز کا شکار ہیں۔