لندن(سی این این) بظاہر تو اسے انسانی جسم میں تنوع کی ایک اور مثال قراردیا جاسکتا ہے مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مردانہ جنسی عضو میں خم کینسر کے خطرے کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عضومیں خم ’پیرونیز ڈزیز‘ نامی بیماری کی وجہ سے ہے تو ایسے مردوں کو معدے، جلد اور خصیے کے کینسر کا خدشہ ہوسکتا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اس خم کو ’پینائل فائبروسس‘ بھی کہا جاتا ہے۔ بیماری کے باعث خم پیدا ہونے کی ایک واضح علامت سختی کی حالت میں عضو میں محسوس ہونے والا درد ہے، جس کے باعث ازدواجی فرائض کی ادائیگی میں بھی دقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تحقیق کاروں نے 15 لاکھ مردوں کے بارے میں حاصل کی گئی معلومات سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر جنسی عضو میں خم بیماری کے باعث ہو، یعنی اس خم کی وجہ سے درد بھی محسوس ہوتا ہو، تو ایسے مردوں میں خصیے کے کینسر کا خدشہ 40 فیصد زیادہ، جلدی کینسر کا خدشہ 29 فیصد زیادہ، اورمعدے کے کینسر کا خدشہ 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ محض خم کا موجود ہونا، یعنی جب عضو میں خم ہو مگر درد یا دیگر کوئی خرابی محسوس نہ ہو، تو یہ ایک نارمل بات ہے اور اس کا کینسر کے خدشے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔