قاہرہ(مانیٹرنگ سیل) مصر میں ماہرین آثارقدیمہ نے تین ہزار سال پرانا تابوت دریافت کیا ہے جسے کھول کر دیکھا گیا تو ماہرین بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔ دی مرر کے مطابق یہ تابوت دریائے نیل کے کنارے واقع شہر لکسور کے علاقے الاساسیف سے دریافت ہوا، جو 3ہزار سال قدیم تھا لیکن جب ماہرین نے اسے کھولا تو اس کے اندر ایک خاتون کی حنوط شدہ لاش اب تک صحیح سلامت موجود تھی۔مصر کے وزیربرائے نوادرات خالد العنانی کا کہنا تھا کہ ”ماہرین نے دو مقبرے دریافت کیے تھے جن میں سے ایک سے یہ تابوت برآمد ہوا۔ ان مقبروں کا تعلق 12ویں صدی قبل مسیح سے ہے، جو مصر کی 17ویں سلطنت کا زمانہ تھا۔اس سلطنت کے فراعین سب سے زیادہ معروف ہوئے جن میں ایک طوطنخامن بھی تھا۔ اس جگہ پر فرانسیسی تحقیق کاروں نے مارچ میں کھدائی شروع کی تھی، جو مئی میں روک دی گئی اور اگست میں ایک بار پھر کھدائی کا کام شروع کر دیا گیا۔ ان مقبروں سے اس تابوت کے علاوہ 5رنگین ماسک اور 1ہزار چھوٹے چھوٹے مجسمے بھی دریافت ہوئے۔ ان مجسموں کے متعلق ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ مرنے والے شاہی کے افراد کے ساتھ خدام کے طور پر دفن کیے جاتے تھے تاکہ اگلی زندگی میں یہ ان کی خدمت کریں۔“