لاہور(طارق ملک)ملک بھر میں سیکیورٹی اداروں اور پولیس نے گذشتہ روز تحریک لبیک پاکستان کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے علامہ خادم حسین رضوی سمیت مرکزی رہنماؤں اور سینکڑوں متحرک کارکنوں کو حراست میں لیا ،علامہ خادم حسین رضوی کو کتنے عرصہ زیر حراست رکھا جائے گا اور اب تک ملک بھر میں تحریک لبیک کے کتنے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے ،اہم ترین معلومات منظر عام پر آ گئیںامریکی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں ضلع لاہور کے اہم سرکاری عہدے دار کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوے کہا ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی، ڈاکٹر اشرف آصف جلالی اور دیگر کارکنوں کو تین ایم پی اوز کے تحت حراست میں لیا گیا ہے،انہیں 30دن سے 80دن تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے جبکہ ابتدائی طور پر خادم حسین رضوی کو تیس دن کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔انتظامیہ کے مطابق تین ایم پی او کے تحت پکڑے جانے والے شخص کی مدت میں ڈپٹی کمشنر لاہور کی درخواست پر چیف سیکرٹری اس کی مدت بڑھا کر ساٹھ اور اسی دن بھی کر سکتا ہے جبکہ ریویو ہائیکورٹ کا بورڈ کرتا ہے۔اسی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہر قانون بیرسٹر آفتاب مقصود کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کو یہ اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کسی بھی شخص کو امن میں خلل ڈالنے کے شبے میں حراست میں لے سکتی ہے،ایسے زیر حراست افراد کو باقاعدہ چارج شیٹ کر کے بتایا جاتا ہے کہ انہیں کس جرم کے تحت حراست میں لیا گیا ہے؟۔ان کا کہنا تھا کہ شخصی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی بھی شخص عوام کو مذہبی بنیادوں پر اکسائے اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچائے۔دوسری طرف آئی جی پنجاب پولیس آفس کے ایک افسر نے امریکی خبر رساں ادارے کوبتایا کہ صوبہ پنجاب میں ایک ہزار 75 افراد کو تین ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے، تحریک لبیک کی مرکزی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کوئی نیا مقدمہ درج نہیں کیا گیا تمام کو پرانی درج ایف آئی آر کے تحت حراست میں لیا گیا جن میں دہشت گردی، نقص امن میں خلل ڈالنا، شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانا اور کارسرکار میں مداخلت سمیت دیگر دفعات درج ہیں۔