بیجنگ(سی این این) چین میں یغور مسلم اقلیت ایک عرصے سے زیرعتاب ہے جس پر نماز اور روزے سے روک سمیت کئی مذہبی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں اور اب ان کے گھروں پر ہی قبضے شروع ہو گئے ہیں۔ ویب سائٹ scoop.co.nz کی رپورٹ کے مطابق چینی حکومت نے 10لاکھ ہین (Han)نسل کے چینی باشندوں کو صوبہ ژن جیانگ کے یغور مسلمانوں کے گھروں میں رہنے کے لیے بھیج دیا ہے اور اب یہ ہین چینی باشندے بن بلائے مہمان بن کر یغور مسلمانوں کے گھروں میں براجمان ہیں۔ حکومت نے طرف سے ان ہین چینیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو کسی بھی اسلامی عقیدے پر عملدرآمد کرتے دیکھیں تو فوری طور پر انتظامیہ کو اس کے متعلق بتائیں۔امریکی ماہربشریات ڈیرین بائلر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ”اب اگر کوئی یغور مسلمان اپنے مسلمان ہمسائے کو السلام و علیکم بھی کہے گا تو اس کی انتظامیہ کو رپورٹ ہو گی اور وہ اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔ اب کوئی یغور مسلمان گھر میں قرآن مجید نہیں رکھ سکے گا، نماز ادا نہیں کر سکے گا اور ماہ رمضان میں روزے نہیں رکھ سکے گا۔ حتیٰ کہ اب کوئی مسلمان لڑکی پورا جسم ڈھانپنے والا یغور مسلم خواتین کا روایتی لباس نہیں پہن سکے گی۔ یہ ہین چینی باشندے یہ بھی نوٹ کریں گے کہ آیا مسلمان تاش کھیل رہے ہیں یا نہیں اور فلمیں دیکھتے ہیں یا نہیں۔ وہ اس کی بھی انتظامیہ کو رپورٹ کریں گے۔“ ڈیرین بائلر نے یہ باتیں اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بیان کی ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ چینی حکومت مسلمانوں سے اس کا اسلامی تشخص مکمل طور پر چھین لینا چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ مسلمان اپنے تمام تر عقائد کو بھلا کر ہین چینیوں کی طرح زندگی گزاریں۔ یغور خواتین، ہین خواتین کی طرح مختصر اور مغربی طرز کا لباس پہنیں، یغور مسلمان تاش کھیلیں اور فلمیں دیکھیں۔