فیصل آباد (سی این این)ملک بھر میں تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے ،علامہ خادم حسین رضوی  کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ ٹی ایل پی کی مرکزی و صوبائی قیادت اور کارکنان  کی گرفتاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں،دوسری طرف ایس پی اقبال ٹاؤن کو مانگا منڈی میں مدرسے پر چھاپے کے موقع پر تحریک لبیک کے کارکنان کی جانب سے یرغمال بنائے جانے  کی اطلاعات موصول ہو  رہی ہیں۔واضح رہے کہ تحریک لبیک نے 25 نومبر کو اسلام آباد میں جلسے کااعلان کررکھا تھا جس کی کال علامہ خادم رضوی نے دی تھی،ملک بھر میں جاری کریک ڈاؤن کے بعد ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے خادم رضوی ،پیر افضل قادری اور تحریک لبیک سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ  چند لوگوں کی غلطیوں کی سزا سواد اعظم کو نہ دی جائے نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی حکومت کی ہدایت پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک کے کارکنوں کیخلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جبکہ علامہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور بعض مقامات پر پولیس کو تحریک لبیک کا کارکنوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے،زیادہ تر گرفتاریاں پنجاب اور بالخصوص راولپنڈی ڈویژن سے کی جا رہی ہیں،جن شہروں میں تحریک لبیک کے کارکنان اور عہدے داروں کی گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں ان میں لاہور، قصور،شیخوپورہ،فیصل آباد ،ملتان ،گجرانوالہ،گجرات،اٹک،راولپنڈی سمیت دیگر شامل ہیں جبکہ پشاور ،ڈی آئی خان ،کراچی اور حیدر آباد میں بھی تحریک لبیک کے کارکنان کی گرفتاریوں کی اطلاعات ہیں۔دوسری طرف اطلاعات ہیں کہ مانگا مانڈی میں ایک مدرسے پر پولیس کی جانب سے مارے جانے والے چھاپے کے دوران تحریک لبیک کے کارکنوں نے ایس پی اقبال  ٹاؤن کو یرغمال بنا لیا ہے ۔لاہور پولیس کے مطابق خادم رضوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، خادم رضوی کے بیٹے نے بھی اپنے والد کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔دوسری طرف پولیس کی بھاری نفری مراڑیاں شریف گجرات میں پیر افضل قادری کی گرفتاری کے لئے پہنچ چکی ہے تاہم انہیں حراست میں لئے جاے کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں ۔دوسری طرف معروف عالم دین اور تحریک لبیک اسلام کے سربراہ علامہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی نے  سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند لوگوں کی غلطیوں کی سزا سواد اعظم کو نہ دی جائے ،ہم نے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ تحفظ پاکستان کے لئے کام کیا ہے لہذا چند افراد کی غلطیوں کی وجہ سے پورے اہل سنت کو سزا نہ دی جائے اور ملک بھر میں تحریک لبیک اسلام  کے کارکنوں کی گرفتاریاں بند کی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ  اگر موجودہ گرفتاریاں آسیہ بی بی کیس کے حوالے سے دیئے جانے والے حالیہ دھرنے سے ہیں تو  تحریک لبیک اسلام کا بڑا واضح موقف رہا ہے کہ توڑ پھوڑ ، گھیراؤ جلاؤ کرنے اور پاک فوج کے خلاف فتوی دینے والوں سے بھی ہمارا  کوئی تعلق نہیں اور اسی بنیاد پر ہم نے تحریک لبیک پاکستان سے علیحدگی اختیار کی تھی ،لیکن تحریک لبیک اسلام کے پر امن کارکنان کو اس طرح تنگ کریں گے تو پھر اچھا نہیں ہو گا ،اگر ہمارے کارکنوں کی گرفتاریاں جاری رہیں تو پھر یہ انہیں بھی ترغیب ہو گی کہ وہ بھی گھیراؤ جلاؤ اور توڑ پھوڑ کی طرف آئیں ۔انہوں نے اپنے کارکنوں کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کسی کی غلطیوں اور غلط پالیسیوں کا ہمیں کفارہ نہیں بننا چاہئے ،اس لئے کارکنان پر امن رہیں ۔”