اسلام آباد(سی این این)آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کیخلاف دھرنوں کے دوران املاک کونقصان پہنچانے والوں کی تصاویر جاری کر دی گئیں ،وزارت داخلہ نے توڑپھوڑاورہنگامہ آرائی کرنے والوںکی تصاویرجاری کردیں۔ توڑپھوڑکرنے والوں کی تصاویرسپیشل برانچ اوردیگرذرائع سے حاصل کی گئیں،ملزمان کی شناخت پرایف آئی اے اورپولیس کوفوری کارروائی کے احکامات جاری کر دیئے گئے، وزارت داخلہ نے اپیل کی ہے کہ عوام توڑپھوڑکرنیوالوں کی شناخت میں تعاون کریں۔دوسری طرف وفاقی حکومت نے آسیہ بی بی کیس کے فیصلے بعد دھرنے کے دوران املاک کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصرکےخلاف بھرپور کارروائی شروع کرتے ہوئے سینکڑوں افراد کو گرفتار کرکے ان کےخلاف مقدمات درج کرلئے ہیں۔ملک کی صورتحال پر وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کو مختلف اداروں کی طرف سے بریفنگ دی گئی۔ شہریار آفریدی نے پر امن مظاہرے کی آڑ میں املاک اور نہتے شہریوں کو نقصان پہنچانے والے شرپسند عناصر کےخلاف ملک بھر میں کریک ڈاون کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر مملکت داخلہ کے مطابق علمائے کرام کی بات کا احترام کرتے ہیں جنہوں نے کہا تھا کہ توڑ پھوڑ میں ہم نہیں بلکہ شرپسند عناصر ملوث ہیں، لہذا شرپسندوں کی نشاندہی کےلئے وزارت داخلہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر شرانگیز اور نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کےخلاف بھی کارروائی ہوگی۔ شر پسند عناصر کے فرانزک ڈیٹا کو حاصل کرنے کےلئے چیئرمین پی ٹی اے اور سائبر کرائم ونگ کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں۔ ایف آئی اے کے سائبر ونگ اور پی ٹی اے کی جانب سے سوشل میڈیا پر شر انگیز مواد کا جائزہ لیا جارہا ہے۔وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت اور دیگر اداروں سے نقصانات کی تفصیل طلب کرتے ہوئے شرپسندی میں ملوث افراد کی فوٹیجز بھی منگوا لی ہیں۔ ملزمان کی نشاندہی کرکے ان کےخلاف کارروائی کی جائے گی۔فیصل آباد میں پولیس نے احتجاج کرنے والے 3000 افراد کےخلاف 29 مقدمات درج کرکے ضلع بھر میں 218 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ چنیوٹ میں احتجاجی مظاہرین کےخلاف 3 مقدمات درج کرکے 13 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ سرگودھا میں 300 افراد کےخلاف 2 مقدمات درج کرلئے گئے۔ جھنگ میں 150 افراد کےخلاف 2 مقدمات درج کرکے 12 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔کراچی کے علاقے گلستان جوہر اور پہلوان گوٹھ میں فائرنگ کرنے اور زبردستی دکانیں بند کرانے پر تین ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس کے مطابق دکان بند نہ کرنے پر پستول،اور ڈنڈوں سے لیس ملزمان نے دکان میں موجود افراد پر حملہ کردیا جس سے چار دکاندار زخمی ہوگئے۔ ملزمان کے خلاف مقدمے میں جان سے مارنے کی کوشش اور نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔علاوہ ازیں وزیر مملکت مواصلات مراد سعید نے نیشنل ہائی ویز اور موٹر ویز کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں بنائے جانے والی ویڈیوز اورتصاویرکا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جس کےلئے وزارت داخلہ سمیت وفاقی حکومت کے دیگرمحکموں سے توڑ پھوڑ کرنے والے شرپسندعناصر کی نشاندہی کیلئے معاونت مانگ لی۔