لاہور (سی این این) سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کی توہین رسالت ﷺ کیس میں بریت کے فیصلے کے بعد سے ایک مذہبی جماعت کے کارکن مختلف شہروں میں بھرپور احتجاج کر رہے ہیں۔ مذہبی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے کیے جانے والے احتجاج کو پرامن کسی طور بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ کارکن پوری طرح مشتعل ہیں اور جو چیز سامنے آرہی ہے اس کو تہہ تیغ کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے پاکستان کی سڑکیں میدان جنگ بنی ہوئی ہیں اور چار سو مار دھاڑ کے مناظر نظر آرہے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے جس میں احتجاج کرنے والی مذہبی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کیلئے آنے والے افراد پر فائرنگ کا احوال نظر آرہا ہے۔ ویڈیو بنانے والے کے بقول اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک شخص کی گردن پر گولی لگی ہے۔ایک ویڈیو میں مذہبی جماعت کے کارکنوں کو عام شہریوں کی موٹرسائیکلیں جلا تے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ایک اور ویڈیو میں مذہبی جماعت کے کارکن ایل ٹی سی کی ایک بس کو توڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔بعض ویڈیو ز میں کارکنوں کو دکانیں جلاتے اور لوٹ مار کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔سوشل میڈیا صارفین اور سنجیدہ پاکستانی یہ سوال کر رہے ہیں کہ جس ہستی کی ناموس کی خاطر مذکورہ مذہبی جماعت احتجاج کر رہی ہے ، کیا اس نے کسی ایسے فعل کی اجازت دی ہے؟ کیا اس ہستی نے کسی بے گناہ مسلمان کے قتل کو جائز قرار دیا ہے؟۔ملک بھر میں جاری پرتشدد احتجاجی مظاہروں پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔