اسلام آباد (سی این این)قو م سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان  نے کہا کہ میں آج آپ کے سامنے صرف اس لئے آیا ہوں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک چھوٹے سے طبقے نے جس طر ح زبان استعمال کی اس پر میں آپ سے بات چیت کرنے کیلئے مجبور ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جو مدینہ کی ریاست کے بعد اسلام کے نام پر بنا ہے، اسلام کے نام پر بننے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کو کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے کے بعد جو زبان استعمال کی گئی، ایسے کون سی حکومت چل سکتی ہے اور اس طرح کونسا ملک چل سکتا ہے؟۔ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ انسان کا ایمان مکمل ہی نہیں ہوتا  جب تک وہ حضور نبی کریم ﷺ سے عشق نہ رکھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ہم نے ڈچ پارلیمنٹ سے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ ملتوی کروایا ، ا س پر او آئی سی سے رابطہ کیا ، یہ ہم نے عملی طور پر کرکے دکھایا ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک میں نے اور میری کابینہ نے ایک چھٹی نہیں کی اور ملک کی معیشت کوبہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ پسند نہ آئے تو سڑکیں بند کردو تو ایسے کوئی ملک چل سکتاہے ؟ اگر سپریم کورٹ من پسند فیصلے نہیں کرتی، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فیصلہ نہیں مانتے اور ملک کو روک دیں گے؟ اس طرز عمل کا نقصان ملک اور عوام کو ہے،عوام ان کے اکسانے میں نہ آئیں ، یہ کوئی اسلام دوستی نہیں ہورہی بلکہ ملک دشمن ایسی باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان کی باتوں میں نہ آئیں جواپنی سیاست چمکانے اور ووٹ بینک بڑھانے کیلئے ایسا کررہے ہیں، سڑکیں بند کرنے سے عوام کا نقصان ہورہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسا کرنے والو ں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہم کو اس طرف نہ لے کرجائیں کہ ریاست ایکشن لینے پر مجبور ہوجائے ،ہم ملک میں توڑ پھو ڑ نہیں ہونے دیں گے ، احتجاج کرنیوالے ریاست سے نہ ٹکرائیں بصورت دیگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کرے گی ،ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے اور ٹریفک نہیں رکنے دیں گے ۔