پشاور(سی این این)سیشن جج پشاور کی عدالت نے نجی سکول کے پرنسپل عطااللہ مروت کو خواتین ٹیچرز اور طالبات سے جنسی زیادتی کرنے اور فحش ویڈیوز بنانے کے جرم میں مجموعی طور پر 105 سال قید کی سزا سناتے ہوئے 10 لاکھ 40 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے  ،مجرم نے مختلف خواتین کے ساتھ زیادتی اور طالبات کی ویڈیوز بنانے کا اعتراف بھی کیا تھا۔سکول پرنسپل کو 21 جولائی 2017 میں حیات آباد سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ایک طالبعلم نے اس حوالے سے معلومات فراہم کیں تھیں اور سکول پرنسپل کی گھناؤنی اور شرمناک حرکات کا پردہ فاش کیا تھا ۔مجرمعطااللہ مروت  کیخلاف 12 مقدمات درج کرنے کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس نے طالبات کے ساتھ جنسی فعل کے علاوہ تمام الزامات کا اعتراف کرلیا تھا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ مجرم کے قبضے سے فحش ویڈیوز، جنسی ادویات اور منشیات بھی برآمد ہوئی تھیں۔عطا اللہ مروت کے گھناؤنے کرتوتوں کو بے نقاب کرنے والے طالن علم کا کہنا تھا کہ  پرنسپل عطااللہ مروت جو کہ سکول کا مالک بھی ہے نہ صرف لڑکوں کے ساتھ غلط کاری کرتا ہے بلکہ لڑکیوں کے ساتھ بھی نازیبا حرکات کرتا اور خفیہ کیمروں کے ذریعے ان کی ریکارڈنگ کرتا ہے، پرنسپل نے اپنے سکول میں جگہ جگہ خفیہ کیمرے لگوا رکھے تھے۔واضح رہے کہ 19 جولائی 2017 کو مجرم عطا اللہ مروت  نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اپنے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ وہ سکول میں باہر سے خواتین لا کر ان کی ویڈیوز بناتا تھا  کیونکہ یہ اس کا مشغلہ ہے، اس نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس کے کمپیوٹر میں اس قسم کی 26 ویڈیوز موجود ہیں۔