نیویارک(سی این این) دین اسلام 1400سال پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ بچوں کی پیدائش میں دو سال کا وقفہ ہونا چاہیے، جسے اب مغرب کے سائنسدانوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے اور اس پر مہرتصدیق ثبت کر دی ہے۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اپنی نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ ”خواتین کو ایک بچے کی پیدائش کے بعد دوسری بار حاملہ ہونے میں کم از کم ایک سال سے 18ماہ تک کا وقفہ کرنا چاہیے۔“ اس وقفے سے یقینا کسی خاتون کے ہاں پیدا ہونے والے دو بچوں کے درمیان 2سے اڑھائی سال کا وقفہ ہو جائے گا۔ سائنسدانوں نے 1لاکھ 48ہزار 500حاملہ خواتین کے طبی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد نتائج میں بتایا ہے کہ حمل کے دوران ایک سال کا وقفہ نہ ہونے کی صورت میں خاتون اور اس کے ہاں پیدا ہونے والے دوسرے بچے کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر لورا سکمرز کا کہنا تھا کہ ”حمل کے دوران کم از کم ایک سال کا وقفہ نہ ہونے کی صورت میں اگلے بچے کی قبل از وقت پیدائش، مردہ پیدائش اور حتیٰ کہ ماں کی موت واقع ہونے کا خطرہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔35سال یا اس سے زیادہ عمر کی خواتین کے لیے تو یہ وقفہ ازحد ضروری ہے کیونکہ دوسری صورت میں ان میں مذکورہ نقصانات کا امکان نوعمر خواتین کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔“