لاہور: چیف جسٹس نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرمجاہد کامران اور دیگرپروفیسرز کو ہتھکڑیاں لگانے کا نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثارنے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران اوردیگرپروفیسرزکو ہتھکڑیاں لگانے کا نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس کی جانب سے ازخود نوٹس کی سماعت آج لاہوررجسٹری میں ہوگی۔ چیف جسٹس نے نیب اورپولیس حکام کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پیش ہونے کا حکم دے دیا۔دوسری جانب چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے بھی اس معاملے پرنیب حکام سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ احکامات کے باوجود اساتذہ کو ہتھکڑیاں کیوں لگائی گئیں اورواقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹرمجاہد کامران پر بے ضابطگیوں کا الزام ہے، انہوں اپنے 9 سالہ دور میں بڑے پیمانے پر یونیورسٹی میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کیں اور 550 سے زائد افراد کو بھرتی کیا، جب کہ اپنی اہلیہ شازیہ قریشی کو غیرقانونی طور پر یونیورسٹی لاء کالج کی پرنسپل تعینات کیا، اس کے علاوہ ڈاکٹرمجاہد کامران نے پپرا رولز کے خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند کنٹریکٹر کو ٹھیکے دیے۔واضح رہے کہ سابق وی سی کومبینہ طور پر یونیورسٹی میں بھرتیوں اوربے ضابطگیوں کے الزام میں حراست میں لے کر10 روزہ ریمانڈ پرنیب کے حوالے کیا گیا تھا۔