اسلام آباد : چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں،غلطی ہم سے بھی ہوسکتی ہے ،بطور ادارہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے بہت سے شعبوں میں تبدیلی لانے کی کوشش کی، شاید میں وہ سب کچھ نہیں کرسکا جو کرنا چاہتا تھا،میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی مجھے پورا قانون نہیں آتا۔لاہور میں جوڈیشل اکیڈمی کی تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس نے کہا کہ جسے انصاف نہیں ملا،وہ ان کے پاس بلاجھجک آسکتاہے،ملک میں پانی کا مسئلہ مجرمانہ غفلت اور بین الاقوامی سازش ہے،آنے والے دنوں میں پانی کی شدیدقلت پیداہونیوالی ہے۔انہوںنے کہا کہ عدلیہ میں تربیت کا فقدان ہے،بہتری اور تبدیلیاں آتی ہیں، ہمیں ایک جگہ نہیں ر±کنا،پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں ،یہ ملک ہمیں مفت میں نہیں ملا، جدوجہد سے ملا ہے۔ان کا پانی کی قلت کے حوالے سے کہناتھاکہ آنے والے دنوں میں پانی کی انتہائی شدیدقلت پیداہونیوالی ہے،یہ مسئلہ مجرمانہ غفلت ہے۔