کالم میرے ہیرو کاکرداری زوا ل

نصرت جبین ملک

یہ میرے بچپن کے ہیرو کی کہانی ہے میں ان کی اس وقت سے پرستار تھی جب میرے دماغ کی کونپل پورے طور نہ کھلی تھی،دل معصومیت کی آماج گاہ تھا،جب مجھے حوادث کا اصل مفہوم معلوم تھا،اور نہ ہی سودو زیاں اور عروج زوال سے کوئی سروکار تھا،میرے بڑے ہی اس کے اصل پرستار تھے انہی سے میں نے سیکھا کہ انہیں ہمیشہ چاہنا ہے،یہ ہیرو کوئی پرستان کا شہزادہ نہیں تھا، کوئی آسمان کا روشن ستارہ بھی نہ تھا،نہ ہی اس کا جسم آگ سے بنا تھا اور نہ یہ اڑن کھٹولے پر سفر کرنے والا وجود تھا یہ گوشت پوست کا انسان تھا درحقیقت یہ ہم سے کوسوں دور رہتا تھا مگر اس کا ایک گھر ہمارے دل میں بھی تھا،ان دنوں مجھے خبر نہ تھی کہ اس میں کیا کیا خوبیاں ہیں بس یہ پتہ تھا کہ کوئی بھلا آدمی ہے،اور گھر والوں سے سن رکھا تھا کہ پاکستان اس کی وجہ سے بہت آگے جائے گا۔ وقت گزرنے کا کام کرتا رہا جب میں چھٹی کلاس میں ہوئی تو ڈائیری لکھنے کا شوق پیدا ہوا بڑے لوگوں کے اخبارات میں انٹرویو پڑھ کراپنا خودساختہ انٹرویو لیااور اس میں ایک ایسی بات کہہ گئی جو برسوں بعد میرے گھر میں ایک قہقہے کی گونج بن کر رہ گئی۔آج سے ڈیڑھ سال پہلے میرے ساتھ گھر کے سٹور روم میں پرانی کتابوں سے گرد جھاڑتے ہوئے بھائی ایک گرد میں اٹی ہوئی ڈائیری سے گرد جھاڑا اور پھراس کے ابتدائی صفحات پڑھتے ہوئے ایک سطر پر پہنچ کر ایک بھرپور قہقہ بلند کیا جس کی گونج نے کچھ دیر کے لئے میری سماعتوں کوشل کر دیا میں نے حیرانگی سے اسی لمحے اس ڈائیری کی تاریخ پر نظر دوڑائی تو مجھے اس میں اس قدر ہنسی کا کوئی پہلو نظر نہ آیا،پھر میں پھٹی اور سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کی ہنسی رکنے کا انتظار کیا وہ اپنی سانس بحال کرتے ہوئے بولے اس ڈائیری کی رائیٹر نے انٹرویو میں ایک سوال کا بڑا مزے دار جواب دیا ہے پوچھا گیا کہ آپ کے ہیرو کون ہیں جس سے آپ متاثر ہیں تو فرماتی ہیں کہ نواز شریف میرے ہیرو ہیں یہ تاریخی الفاظ تو میں سب کو پڑھاؤں گا وہ ڈائیری اچھالتے ہوئے باہر کو چلے گئے اور میں سوچتی رہ گئی کہ واقعی ان کی ہنسی بجا تھی کہ آج میرے خیالات وتاثرات کس قدر مختلف ہو گئے ہیں میرے ماضی کا ہیرو ’’ ہیرو شپ ‘‘کی جنگ ہار گیا اس نے ثابت کر دیا کہ حکمران کئی بن سکتے ہیں رہنما کوئی کوئی بنتا ہے۔ ۲۰۱۳ کے الیکشن تک میری ہمدردیاں نواز شریف صاحب کے ساتھ تھیں مگرجب پاناما کا باب کھلا تو اس وقت بجائے یہ کہ میں اپنے حاکم کے دفاع کے لئے کالم پہ کالم لکھتی اور چڑھے سورج کی پجاری بنی رہتی میں نے قلم کے تقدس کی خاطر غیر جانبدار رہ کر تمام امور کا جائزہ لیا ۔پاناما کے لفظ سے آشنائی وہ پہلی ضرب تھی جو میرے ہیرو ازم کی دیوار کو لگی اور اس میں دراڑپڑگئی۔پھر جوں جوں وقت گزرا تو پتہ چلا کہ عدالتی کاروائی کا پیٹ جن ثبوتوں سے بھرتا ہے نواز اینڈفیملی کا دامن ان سے خالی تھا ان کے پاس جعلی ثبوتوں،قطریوں اور خوشامدیوں کے علاوہ کچھ نہ تھاپھرجرم ثابت ہونے پر میرے اندر قائم وہ کھوکھلی دیوار پورے طور پر ڈھے گئی اور اس کا ملبہ میری امیدوں اور اعتماد پر گر گیاْنواز شریف صاحب انسان ہیں اور کوئی بھی انسان اغلاط سے ماروا نہیں ہوتا لیکن جو لوگ ہیرو کا کردار پلے کرتے ہیں انہیں آخری سانس تک اپنا کردار نبھانا ہوتا ہے اور اس کردار کے لئے اپنے جزبات،خواہشات اور انا کو مارنا پڑتا ہے او ر اپنی انفرادیت برقرار رکھنی پڑتی ہے مگر میرے جیسے بہت سے لوگوں کا ہیرو فلم کے درمیان میں ہی بدل گیا اور آخر کار ہمارے بھروسے اور محبت سمیت اپنی پوری فلم کو ہی فلاپ کر گیا۔