کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو مفرور ملزم قرار دے دیا۔ایف آئی اے نے حسین لوائی اور دیگر ملزمان کے خلاف عدالت میں اربوں روپے کے منی لانڈرنگ کیس کا چالان جمع کرادیا ہے۔ چالان میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو مفرور ملزم قرار دیا گیا ہے۔ایف آئی اے نے نجی بینک کے چیئرمین سمیت مجموعی طور پر 20 افراد کو مفرور قرار دیا ہے جن میں انور مجید اور ان کے بیٹے کا نام بھی شامل ہے۔ مفرور افراد کی فہرست میں سابق صدر اور انکی بہن کا نام 19 اور 20 ویں نمبر پر ہے۔حسین لوائی آصف زرداری کے قریبی ساتھی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سابق چیئرمین ہیں اور ان سمیت 20 ملزمان پر 35ارب روپے منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔  ایف آئی اے کے مطابق حسین لوائی اور دیگر ملزمان نے 3 بینکوں کے 29 جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کیمنی لانڈرنگ کی۔ایف آئی اے نے حسین لوائی کیخلاف ایف آئی آر میں بڑی سیاسی اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ساتھ آصف زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق آصف زرداری اور فریال تالپور کی کمپنی بھی منی لانڈرنگ سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہے، زرداری گروپ نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی رقم وصول کی۔