اسلام آباد : سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی الیکشن کمیشن اور نگران حکومت پر برس پڑے ۔ کہتے ہیں سیاسی ایجنڈا چلانے کے لیے احتساب کے ادارے استعمال ہورہے ہیں،دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،اس سے صاف شفاف الیکشن کی فضا کہاں جا رہی ہے؟۔الیکشن کمیشن خاموش ہے اور اس کی یہ خاموشی مجرمانہ ہے، الیکشن کمیشن کو نظر نہیں آیا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا ؟کیا انہوں نے حکومت سے سوال بھی پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر رضا ربانی نے کہا میں سوالات اٹھا رہا ہوں اورچاہتا ہوں کہ الیکشن کمیشن اس کا جواب دے، کیایہ حقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن نے بینک ملازمین کوپولنگ اسٹاف میں شامل کیا ہے؟اگر یہ درست ہے تو کیا الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی؟اگربینک ملازمین کو انتخابی عمل میں شامل کیا ہے تو اس کے انتخاب کی کیا بنیاد ہے؟۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈھائی سوقومی اسمبلی کے امیدوارکالعدم تنظیموں سے ہیں، کیا الیکشن کمیشن نے کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والوں کی تفصیلات لیں؟۔ جن کالعدم تنظیموں کے امیدواروں پرکیسزہیں کیا انکا ریکارڈ ای سی پی نے منگوایا تھا؟الیکشن کمیشن جواب دے کہ رکارڈ کیوں نہیں منگوایا گیا ؟ قانون اورآئین کی کس شق کے تحت کالعدم تنظیموں کے امیدواروں کواجازت دی؟الیکشن کمیشن کواس کا جوابدہ ہونا ہے۔حیرانی ہوئی کہ نگراں وزیرداخلہ پنجاب نے کچھ کالعدم تنظیموں کے ارکان کے یساتھ میٹنگ کی، نگراں وزیر داخلہ نے کہا کہ میں یقینی بناؤں گا کہ ان کے نام فورتھ شیڈیول سے نکالے جائیں،ہم کون سے صاف شفاف الیکشن کی طرف جا رہے ہیں ؟ پھر فورتھ شیڈول اور نیپ بنایا کیوں تھا؟۔رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سیاسی ایجنڈا چلانے کے لیے احتساب کے ادارے استعمال ہورہے ہیں،دو بڑی سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے،اس سے صاف شفاف الیکشن کی فضا کہاں جا رہی ہے؟۔الیکشن کمیشن خاموش ہے اور اس کی یہ خاموشی مجرمانہ ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہاں تھا جب چیئرمین پیپلز پارٹی کوپنجاب میں مختلف جگہوں پرروکا گیا ؟الیکشن کمیشن کہاں تھا جب بلاول بھٹو کوریلی کی اجازت نہیں دی گئی؟الیکشن کمیشن کو نظر نہیں آیا کہ مسلم لیگ ن کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا ؟کیا انہوں نے حکومت سے سوال بھی پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ ۔سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کی کارنرمیٹنگ پر بھی پتھراؤ ہوا ، حالیہ واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ نگران حکومت جانبداری دکھا رہی ہے جبکہ الیکشن کمیشن بھی آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوچکا ہے ۔ تمام واقعات پر الیکشن کمیشن مکمل طور پر خاموش رہا، الیکشن کمیشن ایسے خاموش ہے جیسے اسے کسی نے کچھ کہا ہو، نگران حکومت ایک جبکہ الیکشن کمیشن دوسری بات کرتا ہے۔