کراچی: نقیب اللہ قتل کیس میں مدعی کے وکیل نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جعلی پولیس مقابلہ کے دوران اسلحہ برآمدگی کیس میں راؤ انوار اور دیگر ملزمان کی درخواستِ ضمانت کی سماعت کی۔ مدعی کے وکیل صلاح الدین پنہور نے عدالتی کارروائی روکنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سندھ ہائیکورٹ میں یہ مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست دائر کی ہے، ہم اس عدالت پر پہلے ہی عدم اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں، ہماری درخواست ہے کہ آپ اس کیس میں کارروائی نہ کریں اور مزید سماعت روکی جائے۔انسداد دہشتگردی عدالت نے مدعی کے وکیل کی استدعا مسترد کردی۔ تو مدعی مقدمہ کے وکیل نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔ عدالت نے مدعی کے وکیل کی غیر موجودگی میں ہی کیس کی سماعت دوبارہ شروع کردی۔ سابق ڈی ایس پی قمر احمد سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر دلائل جاری ہیں۔واضح رہے کہ نقیب اللہ کے قتل کے حوالے سے راؤ انوار سمیت تمام ملزمان کے خلاف دو مقدمے دائر کیے گئے ہیں۔ اغوا اور قتل کے مرکزی مقدمے میں ملزمان کی ضمانت ہوچکی ہے۔ اسلحہ برآمدگی سے متعلق دوسرے مقدمے میں ضمانت کی درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔ اس مقدمے میں ضمانت کے بعد ملزمان آزاد ہوں گے۔13 جنوری 2018 کو کراچی کے ضلع ملیر میں اس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے ایک مبینہ پولیس مقابلے میں 4 دہشتگردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ ہلاک کئے گئے لوگ دہشتگرد نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے اٹھائے گئے بے گناہ شہری تھے جنہیں ماورائے عدالت قتل کردیا گیا۔ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والے ایک نوجوان کی شناخت نقیب اللہ کے نام سے ہوئی۔سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ از خود نوٹس کے بعد راؤ انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔