زمین سے ریاست تک کا سفر
چوہدری تنویر الاسلام جدہ سعودیہ عرب
شروع اس کریم رب کے نام سے جو دلوں کے بھیدوں سے بخوبی واقف ہے
کروڑوں درود اور سلام اس رحمت اللہ علی مین نبی پر جس کے آ نے پر اللہ نے سلسلہ پغمبری ہمشہ کے لیئے بند کر دیا۔
ریاست کا آ غا ز اسی دن سے ہو گیا تھا جب انسان نے زمین پر ملکیت کا خق جتانے کے لیئے لکیر کھینچی تھی۔
 اللہ کی یہ زمین جس کا 71 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا اور 29 فیصد خشکی پر مشتمل ہے اسکو ملکیتوں میں تقسیم کرنے کے لیئے اس وقت زیادہ ضرورت پیدا ہوئی جب اشرف المخلوقات نے اپنے زندہ رہنے کے لیئے ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیئے اس ٹکڑے پر کاشتکاری کا آغاز کیا۔کاشتکاری کی ضروریات کے مدنظر ایسی زمین درکار تھی جو ندی نالوں کے قریب ہو۔
جو سیم زدہ ہو۔
ایسی زمین جسکو نہروں کی سلامی ہو۔ ایسی زمین جس میں جھیلوں میں ٹھنڈا پانی بہتا ہو۔ ایسی زمین جس پر پہاڑوں سے آ بشاریں گرتی ہوں
 اس اہم ضرورت کے پیش نظر لوگوں نے ایسی جگہوں کی طرف رخ کر لیا جہاں نہری پانی اپنی موجوں میں بہتا ہو
جہاں دریاں میں روانی ہو اور  کشتیاں بہہ سکیں
ضرورتوں نے اپنا منہ کھولا تو انسان نے اپنا رخ پہاڑوں کی طرف بھی کیا
ضروریات نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا تو انسان جنگلات پر پہرے داری بھی کرنے لگا۔ بات جنگلات سے ہی شروع ہوئی جنگلات ہی نے انسانوں کو زندگی بخشی۔
جب اشرف المخلوقات کی ضروریات سر چڑھ کر بولنے لگیں تو انسان نے زیریں زمین چھپے قدرت کے خزانوں پر بھی ڈاکے ڈالنے شروع کر دیئے جیسے ہی کسی ایک گروہ کو کچھ ملتا تو زمین کا وہ حصہ پہلے قافلے کی ملکیت بن جاتا دوسرا قافلہ اپنا حصہ تلاش کرنے آ گئے چل پڑتا۔
ضروریات زندگی جب حد سے تجاوز کرنے لگی تو جسم سے روح کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیئے انسان نے سمندروں کے پانی کی گہرائی میں غذا کو تلاش کرتے ہوئے قدرت کی بے زبان مخلوق سے اپنے پیٹ کی بھوک مٹانی شروع کی اور سمندروں کی موجوں پر اپنا قبضہ جمالیا اور اپنی ملت کا حصہ بنا لیا۔ جب پیٹ کی آ گ بجھانے کے لیئے انسان نے زمین کھوج لگائی تو زمین میں چھپے ہوئے قدرت کے خزانے اپنی چمک دکھانے لگے
پھر کیا تھا زمین کہیں سے لوہا اگلنے لگی کہیں تانبا انسانوں پر نچھاور کرنے لگی تو پہاڑوں نے کہا ہم کسی سے کم نہیں سونے کے ہار انسانوں کے گلے میں پہنانے کے اپنی بادشاہت دکھائی کہیں زمین کوئلہ اگلنے لگی تو نمک کی چٹانوں نے انسانوں کو اپنی اہمیت دکھائی۔
انسان کو زمین میں چھپے قدرت کے خزانوں کا پتہ چلا تو زمین کی تہوں میں چھپے تیل نے بھی انسان کو اپنی ضرورت دلا دی۔ زمین کی ساری دولت انسانوں کی ملکیت کی نظر ہو گئی۔
قدرت کی اس دھرتی پر جب انسانوں کا بوجھ بڑھنے لگا انسانی مخلوق ایک دوسرے سے دوریاں اختیار کرتے ہوئے اپنے اپنے قافلے کو لیکر محتلف گروپوں میں تقسیم ہوتے گئے اور اللہ کی اس دھرتی پر اپنا حق جماتے ہوئے مفت میں قبضے کرتے گئے اور ملکیت کو ملت کا نام دیتے ہوئے ملکی سطح پر راج کرنے لگے اور ریاستیں وجود میں آ تی گئی۔ ریاست کی قدر بڑھنے لگی تو ریاستیں قربانیاں مانگنے لگی۔ انسانوں کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہماری ایک عظیم ریاست بھی وجود میں آ گئی جس ریاست پر ہماری آ نکھ کھلی اس عظیم الشان ریاست کا نام *پاکستان* ہے ہماری جان پاکستان پر قربان بیس کروڑ انسانوں کی یہ ریاست تا قیامت قائم رہے۔
*یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے*
*ایسا سبز کے جسکو کبھی خزاں نہ آ ئے*
دعاؤں کی درخواست ہے عظیم کالم نگار میرے بڑے بھائی ظہیر الاسلام کے لیئے۔