نئی دہلی (سی این این)بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں چار افراد نے نوکری کا جھانسہ دیکر 19سالہ لڑکی کو درخت سے باندھ کر اجتماعی زیادتی کر ڈالی ،ملازمت کے نام پر زیادتی کروانے میں ریشمی نامی ایک خاتون نے اہم کر دار ادا کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریشمی نامی خاتون نے زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی کوبہانے سے بلایا اور پھر دیواس کے رہائشی ایک شخص منوج الیاس کے حوالے کردیا جو سنی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔سنی ملازمت کے خواہشمند لڑکی کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر قریبی جنگل میں لے گیا جہاں پر اس کے تین ساتھی مزید اس سے آن ملے جنہوں نے مل کر لڑکی کو ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا اور بارباری زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ جنگل میں اچانک لائٹس روشن ہونے سے ملزمان لڑکی کو چھوڑ کرفرار ہوگئے جبکہ لڑکی نے اس دوران خود کو کسی نہ کسی طرح آزاد کروا کے قریبی علاقے میں پہنچ کر اہل علاقہ سے مدد کی درخواست کی جنہوں نے اس کو مقامی پولیس سٹیشن پہنچادیا۔ متاثرہ لڑکی کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ریشمی اور سنی کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ ان کے دیگر تین ساتھیوں کی تلاش جاری ہے ۔ پولیس کے مطابق ریشمی نامی خاتون اپنے گھر سے ایک سال سے لاپتہ ہے اور اس کے گھروالوں نے اس کی گمشدگی بارے رپٹ بھی درج کر وائی ہوئی ہے لیکن وہ دیواس میں سنی کے ساتھ اپنی مرضی سے رہائش پذیر تھی ۔