لاہور(سی این این) نئے دور میں نیا انداز، الیکشن 2018 میں امیداواروں نے انتخابی مہم کو مزید موثر بنانے کے لئے سوشل میڈیا کا سہا را لے لیا، کہیں پوسٹر اورویڈیو پیغامات ڈال کر ووٹرز کو متوجہ کیا جارہا ہے تو کہیں اپنےمنشورکی تشہیرکی جارہی ہے، کوئٹہ میں سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔زمانے کے انداز بدل گئے، ماضی میں امیدوار ووٹ کےحصول کیلئے گھرگھر جا کر ووٹر کو مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرایا کرتے تھے تاہم اب نئی ایجادات نے انتخابی مہم کا انداز بھی بدل دیا ہے۔ الیکشن 2018 میں حصہ لینے والے امیدواروں نے سماجی رابطے کے ذرائع کو بھی اپنا ہتھیار بنا لیا۔ امیدوار تشہیری مواد اور منشور کو فیس بک اور واٹس ایپ گروپوں کے ذریعے ووٹرز تک پہنچا رہے ہیں۔ووٹرز بھی امیدواروں کی سوشل میڈیا انتخابی مہم میں بڑی دلچسپی لے رہے ہیں اور اپنے حلقہ کے امیدواروں کے پوسٹر اور بینرز پرجوابی پیغامات دینے کے ساتھ ساتھ انھیں شیئر بھی کر رہے ہیں۔ امیدواروں کی لوگوں سے ملاقات اور گلی محلوں میں جلسوں کی ویڈیوز کو بھی وائرل کیا جا رہا ہے۔ فیس بک پر شیئر کی جانے والی تصاویراور ویڈیو پر حمایتی اور مخالفین کی گفتگو بڑی ہی دلچسپ ہوتی ہے۔سوشل میڈیا کے ذریعے چلنے والی انتخابی مہم سے ووٹرز کو امیدواروں کے بارے میں جاننے کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی بھڑاس نکالنےکا موقع بھی مل جاتا ہے۔