کراچی (صائمہ خان) حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی ڈالر کی قیمت میں ہونیوالا اضافہ بدستور جاری ہے اور اب اوپن مارکیٹ میں اس کی قدر 120روپے سے بڑھ کر 122.50روپے تک جا پہنچی ہے جبکہ انٹربینک بھی ڈالر کی قدر میں 60پیسے اضافہ دیکھاگیا جس کے بعد122روپے کی سطح پر جا پہنچا۔ آٹھ جون سے اب تک اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 6.38روپے یعنی ساڑھے پانچ فیصداضافہ ہوچکا ہے اورعید کی تعطیلات ختم ہونے پر آج کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روزاوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں ڈیڑھ روپے اضافہ دیکھاگیاجس کے بعد نئی قیمت 122.50روپے تک جاپہنچی ۔ ڈیلرز کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافہ انٹربینک مارکیٹ میں قیمت بڑھنے سے ہوا۔ دوسری طرف نجی ٹی وی چینل کے مطابق ادائیگیوں کی وجہ سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا۔پورے مالی سال کے دوران امریکی کرنسی کی قدر میں 16 روپے سے زائد کا اضافہ ہوچکا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ادائیگیوں کے باعث روپیہ ڈالر کے سامنے سنبھل ہی نہیں پا رہا۔ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوگا ، پیٹرولیم مصنوعات، کھانے کا تیل، دالیں، خشک دودھ، موبائل فونز، گاڑیاں، مشینریز وغیرہ شامل ہیں سب مزید مہنگی ہوجائیں گی۔