کراچی (سی این این)خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا یومِ شہادت ہر سال 21 رمضان المبارک کو انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے، اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں جلوسوں اور مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں حضرت علیؓ کی حیاتِ مبارکہ پر تفصیلی روشنی ڈالی جاتی ہے۔لاہور میں اندرونِ شہر کی مبارک حویلی موچی دروازے سے صبح 9 بجے مرکزی جلوس برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں اندرونِ موچی دروازہ، محلہ شیعیاں سے ہوتا ہوا اپنی منزل تک پہنچا ۔دوسری طرف کراچی میں یوم علیؓ کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے نکالا،گیا,جلوس پرانی نمائش، ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک، ایم اے جناح روڈ سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ کھارادر پر پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگیا۔جس میں ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی،اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے،جلوس سے قبل پولیس نے سیکیورٹی انتظامات کے سلسلے میں منگل کی شب نمائش چورنگی ،ایم اے جناح روڈ اور جلوس کی گزرگاہ کے اطراف میں قائم دکانوں کو سیل کردیا تھا جبکہ ایم اے جناح روڈ اور ریگل کے اطراف میں گلیوں کو کنٹینرز اور رکاوٹیں لگاکر تمام راستے سیل کر دئیے تھے ،رات گئے بم ڈسپوزل اسکواڈ کی جانب سے سرچنگ کے بعد دکانوں کو سیل کرنے کا عمل شروع ہوا جبکہ روٹس کے اطراف میں گلیوں میں بھی کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں لگا کر راستے بند کردئیے گئے تھے۔جبکہ یوم علیؓ کے موقع پر کراچی میں ڈبل سواری پر پابندی تھی۔سی سی ٹی وی کیمروں سے مرکزی جلوس کی نگرانی کی بھی کی گئی۔مرکزی جلوس کے موقع پر 5 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور افسران تعینات تھے جبکہ رینجرز نے بھی جلوس کی گزرگاہ پر گشت کیا، 72 پولیس موبائلیں، 65 موٹر سائیکلوں کا دستہ اور سات بکتر بند گاڑیاں بھی جلوس کی حفاظت پر مامور تھیں۔ساؤتھ زون میں6 امام بارگاہیں انتہائی حساس، جب کہ 40 حساس قرار دی گئیں تھیں جن میں 3کلفٹن، 2 سٹی ایریا اور ایک لیاری کی امام بارگاہوں شامل تھیں جن کی سیکیورٹی کے لئے خصوصی طور پر پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ جلوس کے روٹس سے رکاوٹوں اور پتھاروں کو ہٹا دیا تھا۔جلوس کے روٹ کو6 سیکٹرز اور15 سب سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا ، پلان کے تحت 40 ایمبولینسیز مجوزہ پوائنٹس پر تعینات تھیں۔ لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال، وال چاکنگ اور نفرت انگیز مواد پر پابندی تھی۔