پشاور (سی این این) جسٹس (ر) دوست محمد کھوسہ کون ہیں، کن اہم عہدوں پر فائز رہے ، اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت وہ خبروں کی زینت کیوں بنے رہے اور ان کے چیف جسٹس کے ساتھ کیا اختلافات تھے ؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ذیل میں دیا گیا ہے۔عمومی طور پر سپریم کورٹ کے کسی بھی جج کی ریٹائرمنٹ پر اس کے لیے فل ریفرنس کا انعقاد ہوتا ہے جہاں ان کے ساتھی جج اور وکلا انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور جانے والا جج بھی تقریر کرتا ہے اور اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے۔اس کے علاوہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) بھی سبکدوش ہونے والے جج کے اعزاز میں تقریب اور عشائیہ کا انعقاد کرتی ہے۔لیکن ماضی کے برعکس، پشاور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور چار سال تک سپریم کورٹ کا حصہ رہنے والے جسٹس دوست محمد خان نے ان دونوں تقاریب میں شرکت سے معذرت کر لی جس کے بعد وکلا کے حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔یہ بات بھی سامنے آئی کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے جسٹس دوست کھوسہ سے فل کورٹ ریفرنس میں کی جانے والی تقریب کا سکرپٹ مانگا ہے تاہم انہوں نے تقریر فراہم کرنے سے انکار کردیا جس پر دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ پشاور ہائیکورٹ بار کی جانب سے اس معاملے پر ایک قرار داد بھی منظور کی گئی تھی جس کے بعد چیف جسٹس نے اپنے پشاور ہائیکورٹ بار کے دورے کے دوران واضح کیا تھا کہ انہوں نے جسٹس دوست محمدخان سے ریفرنس سے قبل کوئی تحریری تقریرطلب نہیں کی تھی کیونکہ یہ ہرریٹائرہونے والے جج کاحق ہے وہ اپنی مرضی کی تقریر کرسکتاہے مگریہاں کی وکلا برادری نے ہماراموقف سنے بغیرہمارے خلاف قراردادمنظورکی۔دوست محمد کھوسہ سپریم کورٹ کے سینئر جج ہونے کے باوجود مختلف بینچوں کا حصہ تو رہے لیکن انہوں نے اپنی مدت ملازمت کے دوران کبھی بھی کسی بینچ کی سربراہی نہیں کی ، یہ بات بھی ان کی چیف جسٹس ثاقب نثار سے ناراضی کی وجہ تھی۔واضح رہے کہ جسٹس دوست محمد 1953 میں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بنوں سے گریجویشن اور پھر کراچی سے وکالت کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بنوں میں ہی وکالت کی پریکٹس شروع کی اور بنوں بار اور پھر پشاور ہائی کورٹ بار کے صدر بنے۔2002 میں وہ پشاور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج بنے اور 2003 میں پشاور ہائی کورٹ کے مستقل جج کے طور پر حلف اٹھایا جبکہ 2011 میں انہیں پشاور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا۔دوست محمد خان 2014 میں سپریم کورٹ کے جج بنے اور 19 مارچ 2018 کو مدت پوری کرکے ریٹائر ہوگئے۔پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے انہوں نے ڈرون حملوں، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو تاحیات ناہل قرار دینے، خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کے معاہدوں اور لاپتہ افراد کے بہت سارے کیسز پر فیصلے دیئے۔خیبر پختونخوا میں موبائل کورٹس اور پشاور ہائی کورٹ میں ہیومن رائٹس ڈائریکٹوریٹ کا قیام بھی جسٹس دوست محمد کے دور میں عمل میں آیا۔