نئی دلی(سی این این) جنسی مجرموں کی نفسیات کا سطحی جائزہ بھی لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بدبخت حیوانات سے کم نہیں ہوتے جن میں شرم اور اخلاقیات جیسی چیزوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ بھارت سے سامنے آنے والی جرم کی یہ داستان بھی ایک ایسے ہی درندے کا احوال ہے جس نے اس لڑکی کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا جو اسے بھائی کہتی تھی۔ دی مرر کے مطابق یہ لڑکی اپنی زندگی کا المیہ کچھ یوں یبان کرتی ہے:جب میں 14سال کی تھی تو ہمارے کرایہ دار نے میری عصمت دری کر ڈالی۔ میں اسے بھیا کہتی تھی اور وہ مجھے بہت پسند تھا۔ اگرچہ میری والدہ مجھے اس سے بات چیت کرنے سے منع کرتی تھیں لیکن میں ان کی بات پر توجہ نہیں دیتی تھی۔ اب میں سوچتی ہوں کہ مجھے ان کی بات سننی چاہیے تھی۔یہ 2015ءکے اکتوبر کی ایک سہ پہر تھی جب دروازے کی گھنٹی بجی۔ میرے گھر والے اترپردیش میں ایک شادی کیلئے گئے ہوئے تھے اور میں اکیلی تھی۔ میں نے دروازہ کھولا تو وہ سامنے کھڑ اتھا۔ میں اسے دیکھ کر مسکرائی اور اسے اندر لے آئی۔ جب میں چائے بنانے کیلئے کچن کی جانب بڑھ رہی تھی تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ یہ باتیں سن کر میں حیرت زدہ رہ گئی۔میں نے اسے یاد دلایا کہ میں اسے اپنا بڑا بھائی سمجھتی ہوں لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ مزید کہتی اس نے مجھے دبوچ لیا۔میں نے اس سے فریاد کی کہ مجھے چھوڑ دے لیکن اس نے زبردستی جاری رکھی اور میری عصمت دری کر ڈالی۔ اس واقعے کے بعد سے وہ مجھے انسان کی بجائے حیوان نظر آتا تھا۔ اس نے مجھے تھپڑ بھی مارے اور دھمکی دی کہ اگر کسی کو کچھ بتانے کی کوشش کی تو میری قابل اعتراض تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال دے گا۔اس واقعے نے میری زندگی بدل کر رکھ دی لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ تو ابھی آغاز تھا۔ میں نے اپنے گھر والوں کو کچھ نہیں بتایا لیکن کچھ عرصے بعد میری صحت خراب ہونا شروع ہوگئی اور میں نے سکول جانا بھی چھوڑ دیا۔ مجھے پیٹ میں درد رہتا تھا لیکن میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ میرے پیٹ میں بچہ پرورش پارہا تھا۔جون 2016ءکی ایک رات میرے پیٹ میں بہت شدید درد ہونے لگا اور میرے والد مجھے ہسپتال لے کر گئے۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ میں آٹھ ماہ کی حاملہ تھی۔ یہ سن کر میرے والد نے ہسپتال میں ہی مجھے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔ بالآخر میں نے اپنے والدین کو سب کچھ بتادیا اور چند دن بعد میری عصمت دری کرنے والے درندے کو گرفتار کرلیا گیا۔اگلے ماہ میں نے ایک بچی کو جنم دیا۔ وہ پانچ دن تک میرے ساتھ رہی اور یہ میری زندگی کے بہترین دن تھے۔، اس کے بعد سرکاری اہلکار اسے لے گئے۔ میرے والدین بچی کو اپنے گھر میں نہیں رکھنا چاہتے تھے لہٰذا انہوں نے اسے ایک سرکاری فلاحی ادارے کے حوالے کردیا۔میری عصمت دری کرنے والے درندے کو 10سال قید اور 20ہزار روپے جرمانہ کیا گیا لیکن میں سمجھتی ہوں کہ میری سزا اس کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ میرے والدین نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے انہیں بدنام کیا ہے۔ اب میں ان سے مل سکتی ہوں اور نہ اپنی بہنوں سے۔ میری زندگی ختم ہو کر رہ گئی ہے اور امید کی کوئی کرن نہیں۔