تحریر :وقار احمد پراچہ

نمائندے کی سیاسی ڈائری۔
بلدیاتی نظام دراصل عوامی فلاح وبہبود اورمسائل کو مقامی سطح پر حل کرنے کانظام ہے ۔دنیابھر کے اکثر ممالک میں یہ نظام انتہائی کامیابی سے کام کررہاہے۔بلدیاتی نظام بحال ہوتے ہی عوام کو بہت سی توقعات اور امیدیں وابستہ تھی۔خانیوال میونسپل کمیٹی میں چیئر مین اوروائس چیئرمین کاتعلق ایک ہی جماعت مسلم لیگ(ن) سے ہونے کے باوجودگزشتہ آٹھ ماہ سے ہونے والی دھڑے بندی کے نتیجہ میںبلدیہ کے اجلاس انتہائی کشیدہ ماحول بلکہ ہر ہونے والا اجلاس مچھلی منڈ ی کا نقشہ پیش کرتانظرآیا۔چیئرمین مسعودمجید خان ڈاہا جنہیں ان کے ماموں ایم پی اے نشاط احمد خان ڈاہا کی مکمل حمایت وتائید حاصل ہے جبکہ وائس چیئرمین راناعبدالرحمن خاںاورا ن کے دھڑے کو حاجی عرفان احمد خان ڈاہا وممبر قومی اسمبلی محمدخان ڈاہا کی حمایت حاصل ہے۔لیکن اس دھڑے بندی کے نتیجہ میںشہریوںکو درپیش مسائل جوںکے توں ہیں بلکہ عوام موجودہ بلدیاتی سسٹم کی بجائے ایڈمنسٹریٹردو رکو بہترقرار دے رہے ہیں۔بلدیہ خانیوال کاایوان 54ارکان پر مشتمل ہے۔جس میں 4کا تعلق پی ٹی آئی سے باقی مسلم لیگ(ن) سے تعلق رکھتے ہیں۔ وائس چیئرمین بلدیہ خانیوال رانا عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ چیئرمین مسعود مجید ڈاہاکی طرف سے اپنے حامی کونسلرز کو تو ہر طرح سے نوازا جارہاہے انہیں فنڈز وگرانٹ جاری کی جاتی ہیں۔ان کے حلقوںمیں درپیش مسائل کوترجیحی بنیادوں پر حل کیاجاتاہے جبکہ وائس چیئرمین رانا عبدالرحمن خاں کے حامی کونسلرز کو مکمل طورپردیوار سے لگایاہواہے۔ان کونسلرز کے حلقوں میں ان کے مقابلے میں ہارے ہو ئے کو ترجیح دی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں ماحول میں مزید تلخی وکشیدگی بڑھ رہی ہے۔وائس چیئرمین کے حامی کونسلرز جن کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے اور مسلم لیگ(ن)کے ٹکٹ پر ہی کامیاب ہوئے ہیںان کی پیش کردہ قراردادوں پرعمل نہیں کیاجاتا اور اس طرح گزشتہ آٹھ ماہ سے ہونے والے تمام اجلاس ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی نذرہوچکے ہیں۔گزشتہ دنوں منعقد ہونے والا میونسپل کمیٹی خا نیوال کا اجلا س خا ص وا ئس چیئر مین /کنو ینئر را نا عبد الر حمن خا ں منعقد ہوا اجلا س شر وع ہو تے ہی عبد الصمد خٹک نے قرار داد پیش کر تے ہو ئے کہا کہ را نا عبد الر حمن خاں بطو ر کنو ینئر ہا ﺅ س کا اعتما د کھو چکے ہیں وہ دو با ر ہ اعتما د کا ووٹ لیں اور پھر اجلا س کی صدا ر ت کر یں جس پر را نا عبد الر حمن نے کہا کہ ایجنڈ ا پیش ہو نے دیں اس قرار دا د کو بعد میں دیکھتے ہیں جس پر چیئر مین گر و پ کی بڑ ی تعدا د میں کو نسلر ز نے کھڑ ے ہو کر گو سپیکر گو کے نعرے لگا نے شرو ع کر دیے اور ایوا ن مچھلی منڈ ی بن کر رہ گیا کا ن پڑ ی آ وا ز سنا ئی نہیں دے رہی تھی ۔ پی ٹی آ ئی کے کو نسلر وزیر اقبا ل نیا زی نے کہا کہ عبد الصمد خٹک کی پیش کر دہ قرار داد کے مطا بق کنو ینئر کا کردار غیر جا نبدا ر نہیں رہا اس لیے انہیں دو با رہ اعتما د کا وو ٹ لینا چا ہیے شیخ فتح علی نے کہا کہ ہم شر وع دن سے ہی یہ با ت کر رہے ہیں کہ سب کو نسلر ز کو بلا امتیا ز فنڈ ز اور مرا عا ت دی جا ئیں یہ سا را ہا ﺅ س مسلم لیگ ( ن) کا ہے اتفا ق را ئے سے نظا م کو چلا یا جا ئے لیکن ہما ری پیش کر دہ قرار دا دیں ر دی کی ٹو کری کی نذر کر دی جا تی ہیں ابھی تک با ئی لاز نہیں بن سکے جس کے باعث بلدیہ خانیوال کے تمام اجلاس ہنگامہ آرائی کی نظر ہوتے چلے آرہے یں ایوان مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا ہے مسلم لیگ (ن) کے اس ہاﺅس میںاپوزیشن کا کردار ادا کرنے والوں پی ٹی آئی کے اراکین کی نہ صرف موجیں لگی ہوئی ہیں بلکہ ان کی پانچوں گھی میں ہیں ۔را نا عبد الر حمن نے کہا کہ ہم نے عوا م کی فلا ح و بہبو د اور خا نیوال کی تعمیر و تر قی کا حلف اٹھا یا ہے انہو ں نے کہا کہ اگر میں بلد یہ کی کر پشن پر آ نکھیں بند کر لو ں اور آ نکھو ں پر پٹی با ند ھ لو ں تو سپیکر منطو ر ہو ں ، اگر کر پشن کے خلا ف آ وا ز بلند کر و ں تو کنو ینئر منظو ر نہیں ہو ں انہو ں نے کہا کہ عہد ے آ نی جا نی چیز ہیں لیکن بلد یہ کے وسا ئل کر پشن کی نذ ر نہیں ہو نے دو ں گا بلد یہ کے وسا ئل اس شہر کی اما نت ہیں ایک ایک پا ئی کا حسا ب لیا جا ئے گا چو دھر ی انور علی جٹ نے کہا کہ اگر را نا عبد الر حمن کے خلا ف اکژیت کی حما ئت حا صل ہے تو پرا پر طر یقے سے قا نون کے مطا بق تحر یک عد م اعتما د لا ئی جا ئے ہم مقا بلہ کر یں گے اجلا س میں بڑ ھتے ہو ئے شو ر شرا بے پر را نا عبد الر حمن نے اجلا س کو غیر قا نونی قرار دیتے ہو ئے ملتو ی کر دیا اس کے سا تھ ہی ان کے حا می کو نسلر ز اور و ہ خو د اجلا س سے چلے گئے جس کے بعد چیئر مین کے حا می کو نسلرز نے کو نسلر عا شق علی کھو کھر کو کنو ینئر مقررر کر کے اجلا س منعقد کیا اور ایجنڈے کے مطا بق خا نیوال شہر کے سیو ر لا ئن کے مختلف مین ہو لز کی مر مت کے لیے 400,000جبکہ تھا نہ گرا ﺅ نڈ پا ر ک کی دیو ار مر مت کے لیے 100,000، میو نسپل کمیٹی کے گرا سی پلا ٹ میں سپلا ئی و فٹنگ بینچ کے لیے 100,000رو پے ان منصو بہ جا ت کو سا لا نہ تر قیا تی پرو گرا م میں شا مل کر تے ہو ئے منظور ی دی گئی اس اجلا س میں عبد الصمد خٹک کی طر ف سے پیش کر دہ قرار داد جس میں رانا عبدالرحمن خاں سے کہاگیاکہ وہ اعتماد کھو چکے ہیں اوردوبارہ اعتما د کا ووٹ لیں اس قرار داد پر تقریبا 32کونسلر کے دستخط بتائے گئے اور عاشق کھوکھر کی زیرصدارت منعقد مذکورہ اجلاس میں اس قرار داد کی بھی منظوری دی گئی ۔ادھر راناعبدالرحمن خاںنے اعلیٰ احکام کو لوکل گورئمنٹ قا نون کی کھلی خلاف ورزی پر ڈپٹی کمیشنر کنٹرولنگ اتھارٹی لوکل گورئمنٹ خانیوال کو درخواست گزراتے ہوئے کہاکہ چیئرمین خانیوال کے ذا تی مفادات اورمسلم لیگ(ن) کے نشان پر منتخب ہونے والے کونسلرز سے جانبدارانہ سلوک کی وجہ سے میںنے ان متاثرہ کونسلرز کے حق میں آواز اٹھائی چیئرمین بلدیہ کو اپنا رویہ درست کرنے کی درخواست کی لیکن چیئرمین بلدیہ مسلسل اسے نظرانداز کررہے ہیں۔بلدیہ کی اس سار ی صورتحال پر نہ صرف منتخب نمائندے بلکہ کونسلرز بری طرح متاثر ہورہے ہیں بلکہ خانیوال کے شہری کے مسائل حل ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہورہاہے۔ مسلم لیگ(ن) کی مرکزی قیادت کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیناچاہےے ۔مرکزی قیادت کے شائد نوٹس لےنے تک حالات مزید خراب ہونے کا امکان ہے بلدیہ کے چیئرمین مسعود مجید خان ڈاہا کو بھی چایئے کہ وہ بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے اکثریتی ایوان کوچلانے کے لیے تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں تاکہ ان کی پہلی چیئرمین شپ مثالی اور یاد گار بن جائے چیئرمین بلدیہ شہر کی ترقی کے لیے جو اقدامات کر رہے ہیں ان قدامات کو مسلم لیگ (ن) کے اکثریتی ہاﺅس میں زبردست مزاحمت کا سامنا ہے اگر ان ترقیاتی کاموں میں کونسلروں کی مشاورت کے ساتھ ساتھ کونسلروں کا ٹیم ورک بھی شامل ہو چاہے ان کونسلروں میں بلدیہ چیئرمین کے مخالف کونسلر کیوں نہ شامل کیے جائیں یہ ترقیاتی کام نہ صرف جلد پایا تکمیل تک پہنچےں بلکہ ان میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی باتیں دم توڑ جائیں ان تمام صورتحال کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ (ن) دو بڑی شخصیات سابق صوبائی وزیر حاجی عرفان احمد خان ڈاہا اور ایم پی اے نشاط احمد خان ڈاہا ایک ٹیبل پر بیٹھ کرمثبت پالیسی مرتب کرنا بھی ضروری ہے جس دن یہ دونوں شخصیات عوام کے وسیع تر مفاد کے لیے اپنی ذاتی معمولی رنجشیں بھلا نہیں دیتے تو بھی یہ تمام ممبران بلدیہ خانیوال دو دھڑوں میں تقسیم رہے گے اور اگر یہ ہی اگریہی صورتحال رہی تو آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو اس کے منفی اثرات کا سامناکرنا ہوگا۔