ایسے لوگ بازراوں میں عورتوں کے درمیان گھومتے پھرتے ہیں اور یہ کھلی بے حیائی نہیں کرتے بلکہ ۔۔۔۔۔

لاہور(سی این این)اللہ کریم نے انسان کو بہت سی امتیازی خصوصیات سے نوازا ہے جبکہ دیگر مخلوقات اس سے محروم ہیں۔ انہیں انعامات میں سے ایک انعام لباس ہے جس سے نہ صرف جسم کو ڈھانپنے کا کام لیا جاتا ہے بلکہ زیب و زینت اور سردی و گرمی سے بچنے کے لئے انسان کی معاونت کرتا ہے۔اسلام میں لباس سے ستر ڈھانپنے کے بارے میں واضح رہنمائی دی گئی ہے ۔عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایسا لباس پہنا کریں جس سے ان کی بے پردگی نہ ہو لیکن موجودہ دور میں ایک عجیب روش چل نکلی ہے ۔مردحضرات بازاروں اور شاپنگ مال میں نیکریں پہن کرگھومتے پھرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کا ستر پورا ہے ۔ شارٹ نیکریں خلاف اسلام ہیں اور انکی بے پردگی کا اعلان کرتی ہیں ۔عام طور مرد حضرات خواتین کے پردے اور انکے لباس پر کڑی تنقید کرتے ہیں لیکن انہی مردوں کا یہ رواج دیکھ کر معاشرے میں دوہرے معیارات نظر آتے ہیں ۔اسلام اس بارے کیا کہتا ہے اس حوالہ سے علامہ مفتی حافظ عرفان اللہ رضوی کا کہنا ہے کہ بازاروں میں شارٹ نیکریں پہن کرنکلنا خلاف اسلام ہے ۔ لباس کا سب سے اہم مقصد ستر پوشی ہے۔ اس لئے جو مسلمان بھائی نیکر استعمال کرتے ہیں انہیں خیال کرنا چاہئے کہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ چھپانا فرض ہے۔ وگرنہ آدمی گنہگار ہوتا رہتا ہے۔ایسے لوگ بازراوں میں عورتوں کے درمیان گھومتے پھرتے ہیں اور یہ کھلی بے حیائی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام میں استعمال کے اعتبار سے لباس کی درج ذیل تقسیم کی گئی ہے۔فرض: ایسا لباس جس سے ستر پوشی ہو سکے۔ نیز سردی اور گرمی میں اپنے جسم کی حفاظت کے لئے استعمال کیا جا سکے۔ ایسا لباس استعمال کرنا فرض ہے۔یاد رہے کہ مرد کے لئے جو ستر ڈھانپنا فرض ہے وہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے اور گھٹنے ستر میں شامل ہیں جبکہ خاتون کے لئے تمام جسم ستر ہے۔ سوائے چہرے، ہاتھ اور پاﺅں کے کہ اپنے محارم رشتہ داروں کے سامنے ان تین اعضاءکا چھپانا فرض نہیں۔مستحب: لباس کی دوسری قسم کو مستحب قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ لباس ہے جو زینت کے لئے یا اظہار نعمت کے لئے پہنا جائے۔ مگر اس میں تکبر اور لوگوں کو حقیر سمجھنا شامل نہ ہو۔ ایک صحابی ؓبارگاہ رسالتﷺ میں حاضر ہوئے۔ فرماتے ہیں” میری خستہ حالی کو دیکھ کر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ (مال و دولت) ہے۔ میں نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ ہر قسم کا مال و دولت ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا، جب تمہارے پاس مال ہے تو تم پر نظر بھی آنا چاہئے۔ یعنی تمہارے لباس سے ظاہر ہونا چاہئے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا انعام و اکرام ہے۔“مکروہ: جو لباس تکبر کے خیال سے پہنا جائے یعنی تکبر پیدا ہونے کا گمان ہو مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا” جو تیرا دل کرتا ہے کھا اور جو پہننا چاہتا ہے پہن مگر دو چیزوں سے اجتناب کرنا اسراف اور تکبر سے“ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمروؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! کیا اگر میرے پاس عمدہ پوشاک ہو اور میں اسے پہن لوں یہ تکبر ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا نہیں۔ میں نے پھر عرض کیا میرے پاس (عمدہ) سواری ہواور میں اس پر سوار ہو جاﺅں یہ تکبر ہوگا۔ آپﷺ نے فرمایا نہیں۔ میں نے پھر عرض کیا اگر میں کھانا تیار کروں اور اپنے دوستوں کو دعوت پر بلاﺅں تو کیا یہ تکبر ہوگا۔ آپﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ تکبر یہ ہے کہ تو حق سے اجتناب کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔چنانچہ تکبر کے خیال سے لباس پہننا نبی کریم ﷺ نے ناپسند فرمایا اور اظہار نعمت کے لئے اچھا لباس پہننا نہ صرف مستحسن ہے بلکہ حضور ﷺ نے اس کا حکم بھی فرمایا۔ حرام: وہ لباس جوتکبر کے صرف خیال سے نہیں بلکہ تکبر کا ارادہ کرکے پہنا جائے۔ اسی طرح مردوں کے لئے ریشم کا لباس پہننا بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ میں ریشم پکڑا اور بائیں ہاتھ میں سونا اور فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔ اسی طرح اتنا باریک لباس پہننا جس سے ستر نظر آئے حرام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *