ممبئی(سی این این)جنسی ہراس کے خلاف خواتین کی عالمی مہم ’می ٹو‘ امریکہ سے شروع ہونے کے بعد یورپ سے ہوتی ہوئی جنوبی ایشیا تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کی متعدد اداکارائیں و ماڈلز نے اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی ہراس کے واقعات سے پردہ اٹھا رہی ہیں۔ ان میں تازہ ترین اضافہ مشہور بھارتی فلم ’عشق باز‘ سے شہرت پانے والی اداکارہ شرینو پاریکھ ہیں جنہوں نے اپنے بچپن میں پیش آنے والے المناک واقعے کی تفصیلات پہلی بار سب کے سامنے بیان کردی ہیں۔شرینو پاریکھ نے اپنی زندگی کے اس دردناک واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’بچپن میں چھٹیاں گزارنے کے لئے میں اپنے ننھیالی گاؤں جایا کرتی تھی۔ ان دنوں ہم لوکل بس پر سفر کیا کرتے تھے۔ بس میں خالی سیٹ نہیں ملتی تھی تو بعض اوقات کسی کے ساتھ سیٹ شیئر کرنا پڑتی تھی۔ ایسے ہی ایک بار ایک انکل نے میرے نانا سے کہا کہ وہ مجھے اپنی گود میں بٹھالیں گے۔ میری نانا نے سوچا میں کھڑی کھڑی تھک جاؤں گی تو انہوں نے بھی مجھے اس شخص کی گود میں بیٹھنے کی اجازت دے دی۔ کچھ دیر بعد میری آنکھ لگ گئی لیکن جب آنکھ کھلی تو محسوس ہوا کہ وہ شخص مجھے غیر مناسب انداز میں چھورہا تھا۔ میں بہت خوفزدہ ہوگئی تھی۔ میرے نانا کچھ فاصلے پر کھڑے تھے لیکن میں انہیں کچھ نہیں بتاپائی، نہ ہی اس وقت اور نہ ہی بعد میں کبھی۔ کاش میں اس وقت کچھ بول سکتی اور اس شخص کو ایک چھ سالہ بچی کو ہراساں کرنے کی سزا مل سکتی۔‘‘شرینو مزید کہتی ہیں کہ ’’اس طرح کے واقعات ایک بار نہیں کئی بار پیش آچکے ہیں، اور میں اپنی سہیلیوں کے حوالے سے جانتی ہوں، لیکن ہم اس کے متعلق کبھی بات نہیں کرتیں۔ ہم یہ سوچ کر خوفزدہ ہوجاتی ہیں کہ ہماری بات پر یقین نہیں کیا جائے گا۔ میں خوش ہوں کہ اب ہم اس مسئلے کے بارے میں آواز اٹھارہے ہیں تاکہ خواتین خاموشی توڑیں اور اپنی بات کہیں۔ اگر ہم اپنے سچ کے لئے کھڑے نہیں ہوں گے تو کوئی بھی ہمارے لئے کھڑا نہیں ہوگا۔‘‘