کراچی(سی این این)پاکستانی روپے کی حالت پہلے ہی بہت پتلی ہو چکی ہے مگر آنے والے دنوں میں اس پر کیا بیتنے والی ہے یہ جان کر یقیناً آپ کو حیرت بھی ہو گی اور تشویش بھی۔ روپے کی قدر بتدریج کم ہوتی چلی جارہی ہے اور ماہرین اندازہ ظاہر کررہے ہیں کہ اگلے کچھ عرصے میں اس کی قدر میں مزید 10 سے 15 فیصد کی کمی ہو جائے گی۔ اورینٹ ایکسچینج کے سی ای او راجیو رائے پنچولیا نے پاکستانی کرنسی کی قدر میں ہونے والی کمی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2018-19ء کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں مزید 10 سے 15 فیصد کی کمی متوقع ہے کیونکہ آئی ایم ایف کے قرضے واپس کرنے کیلئے پاکستانی بینکوں نے چین سے امریکی ڈالر ادھار لئے ہیں۔ بلند شرح سود اور افراط زر بھی پاکستانی معیشت کو متاثر کررہی ہے جس کے پیش نظر متوقع ہے کہ 2020ء تک ایک ڈالر 140 پاکستانی روپے جبکہ ایک درہم 38.16 پاکستانی روپے کا ہوچکا ہوگا۔پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مئی 2017ء میں 16.4 ارب ڈالر تھے جو اب کم ہوکر 10.3 ارب ڈالر پر آچکے ہیں۔ ادائیگیوں کے توازن کو آسان بنانے کیلئے متوقع ہے کہ پاکستان چین سے ایک سے دو ارب ڈالر کا قرض لینے والا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں بھی توقع ظاہر کررہی ہیں کہ 2019ء میں پاکستانی روپے کی قدر کم ہوگی اور ایک ڈالر 125 روپے تک پہنچ جائے گا یعنی ایک درہم تقریباًٍ 34.1 روپے کا ہوگا۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستانی روپے کی قدر ڈالرکے مقابلے میں سالانہ پانچ فیصد کی شرح سے کم ہوتی جارہی ہے اور آنے والے چند سالوں میں یہ رجحان جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔