تحریر:ہانیہ ملک
سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی موجودہ صورت حال
سیاسی اور نظریاتی اختلافات بجا لیکن انسانیت کے کچھ اصول اور تقاضے ہوتے ہیں۔انسانیت کا تقدس اور لوگوں کے جان و مال کی حفاظت سے بڑھ کر کچھ بھی مقدم نہیں ہوتا۔ دراصل ریاست ، آئین ، قانون اور اداروں کا بنیادی مقصد عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنا اور بنیادی حقوق کی فراہمی ہوتا ہے لیکن پاکستان کی صورت حال اس کے بر عکس ہے جس کی ایک مثال سانحہ ماڈل ٹاؤن ہے آج سے تین سال قبل بیرئر ہٹانے کی آڑ میں 14 بے گناہ لوگوں کو عوام کی محافظ پولیس نے ظالم اور غاصب حکمرانوں کے حکم پر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ عزت آب خواتین کے منہ اور پیٹ پر گولیاں چلائیں گئی۔ 100 سے زیادہ لوگوں کو گولیاں سے چھلنی کیا گیا ۔ سفید ریش بزرگوں کو داڑھیوں سے پکڑ کر کے گھسیٹا گیا اور ان پر ڈنڈے برسائے گئے عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ٹیکس وصول کرکے عوام کی حفاظت کے لیے خریدی ہوئی گولیوں اور اسلحہ سے ریاست نے اپنے ہی شہریوں کا ناحق خون بہایا ۔ پاکستان کی تاریخ کا ایسا سانحہ تھا جسے میڈیا نے لائیو کوریج دی میڈیا اور سول سائٹی شور مچاتے رہے لیکن نہ قانون حرکت میں آیا اور نہ ادارے ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کیا لاہور اور اس کے گردونواع کے تمام اضلاع کی پولیس کو اکٹھاکر کے بے گناہ معصوم لوگوں پر رات کے اندھیروں میں حملہ کرنے کا مقصد صرف بیریئر ہٹانا تھا؟ جبکہ عوامی تحریک کے پاس بیریئر لگانے کیلئے قانونی آرڈر بھی موجود تھے ۔ اس سانحہ کو تین سال ہوچکے ہیں اگر قانون، آئین اور ادارے خودمختار اور مضبوط ہیں تو کیا اس سانحہ کے حقیقی قاتل سلاخوں کے پیچھے ہیں ؟ ان تمام سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے ہم ماڈل ماڈل ٹاؤن کس کا مختصر تجزیہ کرتے ہیں۔اس سانحہ کے بعد پولیس نے FIR درج کرنے سے انکار کردیا۔ شہیداء خواتین سیشن کورٹ گئے ۔ سیشن کورٹ نے پولیس کو FIR درج کرنے کا حکم دیا اس کے باوجود پولیس نے FIR درج کرنے پر انکار کردیا ۔بلکہ حکومتی وزراء جواس میں ملوث تھے انھوں نے سیشن کورٹ رِٹ فائل کردی جو لاہور میں ہائیکورٹ نے خارج کر دی لیکن اس کے باوجود پولیس نے FIR کا انداج نہ کیا ۔ کیونکہ اس میں وزیراعظم بمعہ وزیراعلی، وزراء اور با اثر اشخاص ملوث تھے۔ بعد از آرمی چیف راحیل شریف کی مداخلت سے FIR درج کی گئی۔ حکومت نے سانحہ کی FIR عوامی تحریک کے کارکنان کے خلاف درج کروادی گئی ۔ جس نے یہ الزام لگایا کہ عوامی تحریک کے 42 کارکنان نے خود 14 کارکنان کو شہید کیا ۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس پر روزانہ کی بنیادوں پر سماعت شروع کردی ۔ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف جو اس سانحہ میں براہ راست ملوث تھے نے جوڈیشل انکوائری کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے میڈیا کے ذریعے علان کیا کہ اگر جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں میری طرف اشارہ بھی ہوا تو عیدے سے الگ ہو جاؤں گا۔ جسٹس باقر نجفی کمیشن نے مقررہ وقت میں انکوائری مکمل کرکے پنجاب حکومت کے حوالے کردی اس رپورٹ میں سارے کے سارا ہاتھ شریف برادران کی طرف تھا۔اس لیے رپورٹ کو حکومت نے آج تک پبلک نہیں ہونے دیا۔اس رپورٹ کے بارے میں سنیئر تجریہ نگار اور کالم نگار اوریا مقبول جان کاکہنا ہے کہ انھوں نے خود اس رپورٹ کو پڑھا اور جس دن یہ رپورٹ پبلک ہوگئی اس دن شریف برادران کو کوئی پھانسی کے پھندے سے نہیں بچاسکے گا۔اس رپورٹ کے حصول کے لیے ستمبر 2014 میں عوامی تحریک کی طرف سے میرٹ پٹیشن دائر کی گئی۔جس میں پاکستان کے نامور قانون دان علی ظفر کی خدمات کی گئیں دسمبر 2016 کے بعد یہ کس زیر سماعت نہیں آیا اور عوامی تحریک کو تاریخ ملنا ہی بند ہوگئی رپورٹ کے حصول کے لیے جب تک ہائیکورٹ کوئی فیصلہ نہ سنادے سپریم کورٹ میں بھی نہیں جایا جاسکتا ۔ اس کیس کے متعلق عوامی تحریک کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ قادری صاحب کی سربراہی میں استغاثہ کی صورت میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ 56 ٹھوس شہادتوں ، آڈیو اور ویڈیو ثبوتوں کے بعد عدالت نے 9 فروری 2017 کے دن استغاثہ منظور کر لیا ۔ تاہم سانحہ کے بعد ماسٹر مائنڈ کو طلب نہیں کیا گیا ۔ شریف برادران کے نام استغاثہ کیس سے نکال دیے گئے ۔ تاہم درج کی گئی FIR میں بطور ملزم ان کے نام درج ہیں ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اصل مجرموں کو طلب نہیں کیا گیا ۔ 124 پولیس افسران کو طلب کیا گیا ان میں سے آج تک کوئی ایک بھی پیش نہیں ہوا ۔ پولیس افسران اور قاتل حکمران قانون کو ٹھوکر مار رہے ہیں ۔ اس کیس کے متعلق جب میں نے شہداء کے وارثین سے پوچھا تو ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم تین سال سے عدالتوں میں دھکے کھا رہے ہیں لیکن ہمیں انصاف نہیں مل رہا ۔ قاتل حکمرانوں نے ہمیں ہر طریقے سے ڈرانے ، دھمکانے اور خریدنے کی کوشش کی لیکن ہمیں اپنی قیادت پر پورا یقین ہے ۔ ہم ان کی سربراہی میں قانونی جنگ لڑتے رہیں گے ۔ اور کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے ۔ اس سلسلے میں طاہر القادری صاحب کا موقف ہے کہ وہ کبھی سمجھوتا نہیں کریں گے اور قصاص لے کر رہیں گے ۔ انہیں اس نظام سے انصاف کی امید ہرگز نہیں ۔ قصاص کے حصول کے لیے وہ دوسرے اور تیسرے راؤنڈ کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ تین سال کا عرصہ بیت گیا بے گناہ لوگوں کو انصاف نہ مل سکا ۔ منسٹر کا بیٹا شاہ رخ جتوئی قتل کر کے رہا ہو جاتا ہے ۔ نامور سیاستدان کا بیٹا مصطفی کانجو بے گناہ جوان زین کو قتل کرتا ہے تو اس کی ماں بیٹے کا خون بیچنے پر مجبور کر دی جاتی ہے۔ سانحہ قصور میں ملزم نون لیگ کا وزیر ہونے کی وجہ سے باعزت بری کر دیا جاتا ہے ۔ ڈاکٹر عاصم 479 ارب کی کرپشن کرنے کے بعد خود اعتراف کر کے بھی بیرون ملک روانہ ہو چکا ۔ جہاں انصاف کا معیار یہ ہے کہ مجرم اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور مظلوم و بے بس عوام عدالتوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہوں وہاں پانامہ جیسے کیس میں ملوث وزیر اعظم کے باعزت بری ہونے کی امید رکھنا ایک فطری بات ہے ۔
؂دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
           تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
جس نظام کے تحت عدالتی نظام اتنا مفلوج بنا دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے فیصلے کروانے والی روش روایت بن جائے جس معاشرے میں عدل و انصاف اٹھ جائے اسے تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے وارثین کو انصاف دلانا صرف عوامی تحریک کا فرض نہیں بلکہ ریاست ، آئین ، قانون اور اداروں کی سالمیت اور خود مختاری اس کیس کے فیصلے پر منحصر ہے ۔ ورنہ ایسے سانحات کو اس ملک میں روایت بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔