تحریر :ہانیہ ملک

میں اکثر عورت کے حقوق اور ادب و احترام کی بات کرتی ہوں۔شائد اس لئے کہ ہمارے اس اخلاقی طور پر بیمار معاشرے کا المیہ ہے کہ عورت کا ادب و احترام ختم ہوتا جا رہا ہے۔بیمار سوچ کی وجہ سے عوام (خصوصامردوں )کی اکثریت اس بات کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ عورت صرف ایک مخالف جنس ہی نہیں بلکہ ایک باکردار بیٹی،باوفا بیوی ،قابل فخر بہن اور ایک باصلاحیت انسان بھی ہو سکتی ہے۔سوشل میڈیا پہ بہت سے ایسے مرد حضرات جو ہمیں جانتے بھی نہیں ہوتے وہ میسنجر یا کمنٹس میں ہائی،ڈئیر،تم وغیرہ جیسے بے تکلف الفاظ کا استعمال کر کے پتا نہیں کیا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔اگر جانتے یا پہنچانتے بھی ہوں پھر بھی میں نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ بے تکلف گفتگو کو بھی عورت کی توہین سمجھتی ہوں ۔میں ایسے حضرات کو آوٹ کرنا پسند کرتی ہوں۔ایسے بےتکلف الفاظ ایک مہزب انسان ہر ایک کے ساتھ استعمال نہیں کر سکتا۔عورت کو ایک پروڈکٹ سمجھنے کی بجائے اس کا ادب و احترام کریں تا کہ تمھارے اپنے گھر میں موجود خواتیں کو بھی معاشرہ ادب و احترام کی نگاہ سے دیکھے۔عورت کو اللہ نے یہ خوبی عطا کر رکھی ہے کہ وہ مرد کی ہر نگاہ کو پہنچانتی ہے۔اسے کوئی بےوقوف نہیں بنا سکتا جب تک کہ وہ خود بےوقوف نہ بنے۔تاجدار کائنات صل اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت ہے کہ اپ سے بڑھ کے کائنات میں عورت کو اتنا عظیم مقام اور مرتبہ نہ کسی نے دیا اور نہ کوئی دے سکے گا۔آپ کے ادب کا یہ عالم تھا کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہ آپ کے پاس تشریف لاتیں تو آپ ادب سے کھڑے ہو جاتے ان کے قدموں میں اپنی چادر مبارک بجھاتے۔
ہانیہ ملک