اسلام آباد(سی این این) ٹائیفائیڈ قابل علاج بیماری ہے لیکن پاکستان میں اس کی ایک ایسی قسم پھیلنے کا انکشاف سامنے آ گیا ہے کہ سن کر ہر پاکستانی پریشان ہو جائے گا۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق طبی ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ پاکستان میں ٹائیفائیڈ کی ایک ایسی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے جس پر کوئی دوا اثر نہیں کرتی اور یہ لگ بھگ ناقابل علاج ہے۔ اس مرض کی صورت میں دنیا ایک اور لاعلاج مرض کا سامنا کرنے جا رہی ہے۔ماہرین نے ٹائیفائیڈ کی اس قسم کو ’ٹائیفائیڈ سپربگ‘ (Typhoid Superbug)کا نام دیا ہے۔ٹائیفائیڈ کی یہ قسم 5مختلف اقسام کی اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت رکھتی ہے اور ان کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔اب صرف ایک اینٹی بائیوٹک باقی رہ گئی ہے جو اس پر کسی قدر اثر انداز ہوتی ہے۔ تاہم اس مرض کے وائرس میں صرف ایک اور جینیاتی تبدیلی ہوئی تو یہ اینٹی بائیوٹک بھی بے اثر ہو جائے گی اور امکان ہے کہ یہ وائرس جلد اپنے اندر یہ تبدیلی بھی کر لے گا، جس کے بعد ڈاکٹر اس کا علاج کرنے سے قاصر ہوں گے۔ 2016ءسے اب تک پاکستان میں اس مرض کے 850مریض سامنے آ چکے ہیں اوران میں تیزی سے اضافے کا خدشہ ہے۔ماہرین نے اس خطرے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ مرض باقی دنیا میں بھی پھیل سکتا ہے۔آغا خان یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر رومینہ حسن کا کہنا تھا کہ ”مختلف بیماریوں کے وائرس اینٹی بائیوٹکس کے خلاف اپنے اندر مزاحمت پیدا کر رہے ہیں اور جدید ترین ادویات بے اثر ہوتی جا رہی ہیں۔اس صورتحال سے لگتا ہے گویا دنیا اس دور کی طرف واپس جا رہی ہے جب اینٹی بائیوٹکس ایجاد نہیں ہوئی تھیں، اور اینٹی بائیوٹکس کے بغیر معمولی بیماریاں اور عام انفیکشنز بھی جان لیوا ثابت ہوتی تھیں۔اس صورتحال کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے پاس اور کوئی آپشن بھی موجودنہیں ہے۔“