اسلام آباد(کرائم سیل)سرکاری اداروں میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ لگژری گاڑیوں کاریکارڈ مانگا تھاجس پر ایک ادارے نے گاڑیاں تہہ خانے میں چھپادیں۔  چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سرکاری اداروں میں لگژری گاڑیوں کے استعمال سے متعلق ازخودنوٹس کی سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ گاڑیاں چھپانےوالی کمپنی میں نیشنل پاورپارک مینجمنٹ ،قائداعظم تھرمل پاورکمپنی اور انفرااسٹرکچرڈیویلپمنٹ اتھارٹی پنجاب شامل ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ اطلاع ملی کہ سیون سی ون کی بلڈنگ میں 27گاڑیاں چھپائی گئی ہیں،اس پر ایڈیشنل رجسٹرارکوتہہ خانے کے معائنے کیلئے بھیجا،لیکن ایڈیشنل رجسٹرارکوبھی گاڑیاں دیکھنے کی اجازت نہ دی گئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ گاڑیاں چھپانے والی کمپنیاں پنجاب کی ہیں،کروڑوں اربوں کی گاڑیاں کیوں چھپائی جارہی ہیں، عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ معلوم کریں گاڑیاں چھپانے کاحکم کس نے دیا؟ ۔عدالت نے کیس کی سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔