حافط محمد بلال کا سی این این اردو۔ٹی وی کو خصوصی انٹرویو(بیوروچیف طارق ملک)

کچھ لوگ معزوری کی وجہ سے احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو معاشرے پر بوجھ سمجھتے ہیں۔یہی احساس کمتری انہیں فقط اک کمرے تک محدود کر دیتا ہے اور وہ با الکل مفلوج ہو جاتے ہیں۔لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو معزوری کو مجبوری نہیں بناتے اور اپنی زندگی اپنے زور بازو پر گزارنے کی ٹھان لیتے ہیں۔ایسے افراد کا نام تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھا جاتا ہے۔
حافظ محمد بلال ایک ایسے ہی با ہمت شخص ہیں۔
حافظ بلال نے بتایا کہ وہ پاکپتن کی نواحی تحصیل منچن آباد میں پیدا ہوئے ۔والد ایک زمیندار تھے ۔پیدائش کے کچھ عرصے بعد والد ین کو معلوم ہوا کہ انکا نور عین ، آنکھوں کے نور سے محروم ہے تو ان پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔حافظ بلال نے بتایا کہ وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں ۔اس وقت انکی عمر تقریباً چونتیس سال ہے۔اور وہ عرصہ اٹھارہ سال سے موسیقی سے وابستہ ہیں انہوں نے بتایا کہ موسیقی سے لگاؤ بچن ہی سے تھا ۔بینائی سے محروم تھا کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔بہت چھوٹی عمر میں ریڈیو سے گانے سن کر یاد کر لیتا اور گنگناتا رہتا۔اللہ پاک کسی کا حق نہیں رکھتے ،بینائی سے محروم رکھا لیکن با کمال حافظہ عطاء کیا۔جو بات ایک دفعہ سن لیتا ہوں زہن میں محفوظ ہو جاتی ہے۔سات سال کی عمر میں بوریوالا شہر کے ایک مدرسہ عربیہ اسلامیہ میں والد صاحب نے داخل کروا دیا ۔الحمدللہ بارہ سال کی عمر میں قرآن پاک مکمل حفظ کر لیا تھا۔مدرسہ میں بھی فارغ وقت میں اپنا شوق پلیٹ یا پرات وغیرہ بجا کر پورا کر لیا کرتا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ وہ ہارمونیم ،ڈھولک ، مندل ،بانسری اور کی بورڈ بھی بجا لیتے ہیں ۔سوال ۔ کی بورڈ کی تمام آپریٹنگ ڈیجیٹل ہوتی ہے ،آپ کیسے آپریٹ کر لیتے ہیں ؟جواب۔ میں نمبر کی حساب سے یاد رکھ لیتا ہوں کہ کونسی ٹیون کس نمبر پر ہے پھر اسی حساب سے سُر سیٹ کر لیتا ہوں ۔کی بورڈ اور ہارمونیم کے سروں میں کافی حد تک مماثلت ہے اس لئے مجھے یہ سیکھنے میں زیادہ دقت نہیں ہوئی ۔سوال ۔ میوزیکل انسٹرو منٹ بجانے کی با قاعدہ تربیت کہاں سے لی ؟جواب ۔ زیادہ کام میں نے چلتے پھرتے اپنی محنت اور لگن سے سیکھا ہے۔البتہ بانسری استاد محمد طفیل عرف مندری سائیں سے با قاعدہ سیکھی ،ہارمونیم کی با قاعدہ تربیت استاد ماسٹر لطیف صاحب بہت بڑے موسیقار تھے ان سے لی۔

Save

Save

Save