اسلام آباد (سی این این )  بھارت میں انسانیت سوز مظالم پربھی مذہب کا پردہ ڈالا جانے لگا، بھارت میں 8سالہ مسلمان بچی آصفہ بانو کو پہلے اغواکیاگیا،اسے کئی روز تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیااورپھراسے قتل کردیاگیا۔ ٹینس اسٹارثانیہ مرزا نے اس ظلم کے خلاف ٹویٹرپراپنے جذبات کا اظہارکیا تو ہندوانتہاپسندوں نےاسے مذہبی مسئلہ بناکرثانیہ مرزا کو ہدف بنالیااورزیادتی کرنے والے درندوں کی حمایت شروع کردی۔ ثانیہ مرزا کا اپنی ٹویٹ میں کہنا تھا کیا یہ ہے بھارت کا وہ چہرہ جودنیا کو دیکھانا چاہتے ہیں۔ثانیہ مرزا نے لکھا اگر جنس،نسل اورمذہب کوچھوڑ کرایک بچی کے ساتھ ظلم کیلئے آواز نہیں اٹھائی جا سکتی تودنیا میں کسی چیز کیلئے آواز نہیں اٹھائی جا سکتی۔ثانیہ مرزا کی حق کیلئے اٹھائی جانے والی آواز پر بھارتیوں نے اپنا اصل چہر ہ دکھاتے ہوئے کھلاڑی کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔